بلوچستان کو نئے اقتصادی پیکیج کی ضرورت

بلوچستان میں تقریباایک دہائی سےامن وامان کی صورتحال خراب رہی ہےحالیہ برسوں میں بتدریج پرتشددواقعات میں کمی آئی ہے


Editorial April 07, 2016
امتحان ہے سیاسی قیادت کے تدبر اور فہم وفراست کا کہ وہ سرجوڑ بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں تو اس طرح المناک واقعات کا قلع قمع ہوجائے گا۔ فوٹو: فائل

LIVERPOOL: بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، قدرتی ومعدنی وسائل سے مالا مال اتنا کہ اگر ان ذخائرکو زمین سے نکالنے میں ہم کامیاب ہوجائیں تو پورے ملک کی تقدیر بدل جائے، یہی وجہ ہے کہ غیرملکی طاقتیں ان پوشیدہ خزانوں،گوادرکی بندرگاہ اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی غرض سے تخریبی عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہیں ۔

گزشتہ روز راولپنڈی سے کوئٹہ آنے والی جعفرایکسپریس کو سبی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس میں دو مسافرجاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے، شرپسندوں نے ایک پل کے نیچے دھماکا خیزمواد نصب کر رکھا تھا، دھماکے سے ایک بوگی مکمل طور پر تباہ اور چارفٹ پٹڑی کو نقصان پہنچا۔ صوبے میں جاری شورش کے باوجود ریلوے پٹڑیوں کی حفاظت کے لیے موثر حفاظتی اقدامات کا فقدان بھی تسلسل سے نظرآرہا ہے، ریلوے کے اعلیٰ حکام کسی بھی سانحے کے بعد بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں لیکن عملاً ٹرین کا سفر خاصا غیر محفوظ ہوچکا ہے ۔عوام کے جان ومال کے تحفظ کی بنیادی ذمے داری ریاست کا اولین فرض ہے ۔

آخر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا کہاں کی عقلمندی ہے، اپنے حقوق کے دعویدار دوسرے سے جینے کا حق کیوں چھیننا چاہتے ہیں ۔کیا اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے کسی بھی قسم کے سیاسی ومعاشی مقاصد یا اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں،اس المناک واقعے کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت معطل رہی، صوبائی حکومت نے جاں بحق افرادکے لواحقین کے لیے دس، دس لاکھ شدید زخمیوں کے لیے5,5لاکھ اور معمولی زخمیوں کے لیے50ہزارروپے فی کس دینے کااعلان کیا۔ سرکاری مالی امداد کا اعلان کرنا انتہائی سہل اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ان کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

بلوچستان میں تقریبا ایک دہائی سے امن وامان کی صورتحال خراب رہی ہے، حالیہ برسوں میں بتدریج پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بلوچستان میں امن بھی قائم ہوا ہے۔دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے نتائج وقتی ثابت ہونگے اگر بلوچستان کے لیے ایک معاشی واقتصادی پیکیج تشکیل نہ دیا جائے، جس کے نتیجے میں پسماندہ ترین صوبے کے عوام کے مصائب وآلام میں نمایاں کمی ہوسکے گی اور یہ صوبہ بھی ملک کے دیگر صوبوں کی طرح ترقی وخوشحالی کی منازل کو طے کرے گا ۔ امتحان ہے سیاسی قیادت کے تدبر اور فہم وفراست کا کہ وہ سرجوڑ بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں تو اس طرح المناک واقعات کا قلع قمع ہوجائے گا۔