الزامات پر برہم ’’پروفیسر‘‘ نے ’’وکیل‘‘ کا روپ دھار لیا

میری انجری کے حوالے سے بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں، جان بوجھ کر نہ کھیلنے کی بات کسی طور درست نہیں، محمد حفیظ


Sports Reporter April 09, 2016
کپتانی کے امیدوار کھلاڑیوں کی طرف سے آفریدی کو ناکام کرنے کیلیے دانستہ خراب کھیلنے کی اطلاعات من گھڑت ہیں ۔ فوٹو : فائل

PESHAWAR: الزامات پر برہم ''پروفیسر'' نے ''وکیل'' کا روپ دھار لیا، اوپنر محمد حفیظ نے کہا ہے کہ میری انجری کے حوالے سے بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں.

تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں محمد حفیظ نے کہا کہ میری انجری کے حوالے سے میڈیا میں بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں،ایم آر آئی رپورٹس موجود ہیں، میری تکلیف سامنے آنے پر ٹیم منیجر اور ڈاکٹر کو اطلاع کی گئی،اسکین ہوا،رپورٹ میڈیا کو بھی جاری کی گئی،جان بوجھ کر نہ کھیلنے کی بات کسی طور درست نہیں،دوسرا الزام یہ بھی تھا کہ میں نے میگا ایونٹ سے قبل ہونے والی سنگین انجری چھپائی،کیا کوئی بیٹسمین زخمی ہونے کے باوجود ففٹیز بناسکتا اور تیز رننگ کرسکتا ہے۔

ابتدائی میچز میں میری اننگز دیکھ لی جائیں تو یہ تاثر غلط ثابت ہوجائے گا، محمد حفیظ نے ورلڈ ٹوئنٹی20 کے دوران ٹیم میں گروہ بندی اور جان بوجھ کر ناقص کارکردگی دکھانے کے الزامات مسترد کردیے، ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ کپتانی کے امیدوار کھلاڑیوں کی طرف سے شاہد آفریدی کو ناکام کرنے کیلیے جان بوجھ کر خراب کھیلنے کی اطلاعات من گھڑت ہیں،کوئی قیادت سنبھالنا چاہے تو اس کیلیے پہلے اپنی پرفارمنس ثابت کرنا پڑتی ہے،میرے خیال میں پاکستان ٹیم میں کوئی کھلاڑی ایسا نہیں جس نے کسی ایجنڈے کے تحت خراب کھیل پیش کیا ہو،یہ بات ضرور ہے کہ کئی مواقع پر کوئی بیٹسمین یا بولر پرفارم نہ کرسکا ہو۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرلینا چاہیے کہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان کی محدود اوورز میں کارکردگی بہتر نہیں تھی،صرف دورئہ سری لنکا میں بہتر پرفارم کیا،ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں بھرپورکوشش کے باوجود بھی توقعات پر پورا نہیں اترسکے، میگا ایونٹس میں ان ٹیموں سے ہارے جنھوں نے گذشتہ کچھ عرصے میں باہمی سیریز میں بھی ہمیں زیر کیا تھا، انھوں نے کہا کہ شکستوں کا کوئی ایک نہیں مینجمنٹ، کپتان اور مجھ سمیت تمام کھلاڑی بھی ذمہ دار ہیں،میری اپنی کارکردگی بھی اچھی نہیں تھی۔

پاکستان کی ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ کے معیار میں واضح فرق ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ طویل فارمیٹ کیلیے سلیکشن میں تسلسل ہی کامیابی کی ضمانت ہے، مصباح ، اظہر ، اسد شفیق اور میرا کردار طے ہے، بولنگ میں سعید اجمل تھے، بعد ازاں یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے ان کا خلا پُرکیا، اس عرصے میں محدود اوورز کی کرکٹ میں اتنی تبدیلیاں ہوئیں کہ شاید لوگوں کو یاد بھی نہ ہوں۔