غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان نہ آنا صدر آئی سی سی کو کھلنے لگا

قومی کرکٹ کا سب سے بڑا المیہ قرار دیدیا، انٹرنیشنل مقابلوں سے اچھے پلیئرزکی نئی کھیپ سامنے آئے گی، ظہیرعباس


Sports Reporter April 10, 2016
بگ تھری کے مستقبل کا فیصلہ سوچ بچار سے ہوگا،قومی ٹیم کیلیے کپتان تلاش کرنا آسان کام نہیں،سابق بیٹسمین۔ فوٹو: فائل

غیرملکی ٹیموں کا پاکستان نہ آنا صدرآئی سی سی کو کھلنے لگا، ظہیر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کا اس وقت سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ میدان ویران ہیں۔

ان کے مطابق بگ تھری کے مستقبل کا فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا جائے گا، پروفیشنل کرکٹ کا ہونا ضروری ہے، کپتان تلاش کرنا آسان کام نہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے نئے کوچ کی تقرری کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ظہیر عباس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کئی مسائل کا شکار ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ غیرملکی ٹیموں کا نہ آنا ہے، امن وامان کی صورتحال اورماضی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے سبب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مقابلوں کا انعقاد ممکن نہیں رہا جس کی وجہ سے نئے ٹیلنٹ کو بھی صلاحیتوں کے بھرپور اظہارکا چانس نہیں مل رہا۔

انھوں نے کہا کہ عالمی معیار کے کرکٹرز سامنے لانے کیلیے ملک میں انٹرنیشنل مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے، اس سے کھلاڑی بھی گروم ہوں گے اور اچھے پلیئرزکی نئی کھیپ بھی سامنے آسکتی ہے، ظہیرعباس نے کہا کہ جب تک غیرملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستان نہیں آئیں گی اس وقت تک ایسی مشکلات رہیں گی، ہر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو، آئی سی سی کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ میچز کھیلے جائیں، اب امید بندھ رہی ہے اور بتدریج حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ آئی سی سی نے بگ تھری کے قیام کا فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا تھا، اس کی حیثیت کو اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اس ضمن میں22 اپریل کواجلاس میں پیش کیے جانے والے ایجنڈے پر بہت غور و خوض کے ساتھ ہی فیصلہ کیا جائے گا، آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ناکامی کے حوالے سے سوال پر ظہیر عباس نے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، ہار جیت کھیل کا حصہ لیکن ہارنے کے بھی طریقہ ہوتے ہیں، مقابلے کے بعد ہارنا الگ بات ہوتی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کیلیے نئے کوچ کی تقرری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ پی سی بی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی پاکستانی کو یا پھر غیر ملکی کو یہ یہ عہدہ تفویض کرتا ہے، میں اس معاملے پر لب کشائی سے گریزاں ہوں، تینوں فارمیٹ کے لیے ایک ہی کپتان مقرر کرنے سے متعلق انھوں نے کہاکہ کپتان تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں، پاکستان کو بھی سوچ سمجھ کر اقدام کرنے ہوں گے۔