خود احتسابی ایک قومی ضرورت

پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں کرنیوالوں کو پارلیمنٹ کے کردار اور منتخب ارکان کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے


Editorial April 13, 2016
دنیا ہمہ جہتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے ، پاکستان کو بھی داخلی و خارجی کئی دریا پار کرنے ہیں۔ فوٹو؛ فائل

MINGORA: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کا احتساب ہونا چاہیے، پارلیمانی ایتھکس کمیٹی بنا کر ارکان کو اس میں سے گذارا جائے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ اگر آف شور کمپنیوں کا معاملہ حل کرنا ہے تو اس مسئلے کو میڈیا ٹرائل نہ بنایا جائے بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، اس لیے ہمیں دھرنوں اور دھمکیوں سے احتراز کرتے ہوئے معاملے کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں اپوزیشن لیڈر کا بھی احتساب ہو، سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔

امور مملکت میں شفافیت ، میرٹ کی پابندی اور سیاستدانوں کے اخلاقی کردار اور سیاسی وژن کو جمہوریت کی اساسی ضرورتوں میں شامل کیا جاتا ہے اور جدید جمہوری حکومتوں کے رہنے یا نہ رہنے کا بنیادی معیاران کی بے داغ ، جوابدہی سے سرشار شفاف کارکردگی اور کرپشن فری انتظامی ڈھانچے کی قابل رشک دیانتدارانہ ورکنگ ریلشن شپ ہوتی ہے چنانچہ یہی وہ باریک فرق ہے جو ترقی یافتہ ملکوں کو ترقی پذیر ممالک کے مضمحل ، سیاسی و اخلاقی طور پر کمزور اور سیاسی لین دین اور تعلقات کار کے حوالے سے کرپشن میں لتھڑے ہوئے انتظامی سسٹم سے الگ کرتی ہے۔

وزیر داخلہ نے احتساب کی جس ناگزیریت کی بات کی ہے اور اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا جو بیان دیا ہے وہ متن کے اعتبار سے خوش آیند ہے تاہم احتساب کی گونج پہلی بار سول سوسائٹی ، میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کو سنائی نہیں دی ہے ، اس لفظ کی بازگشت سیاسی نقار خانے میں اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس مملکت خداداد کا قیام ۔ تاریخ گواہ ہے کہ 11 اگست1947 کو بابائے قوم محمد علی جناح نے پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسلامیان ہند کو جن تین چیزوں سے خبردار کیا تھا وہ تھیں رشوت ستانی، بدعنوانی اور ذخیرہ اندوزی جنہیں قائد اعظم نے عفریت ،اور سب سے بڑی لعنت قراردیا ، قائد اعظم نے واضح طور پر کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا قومی مجرم ہے جو عوام کو اشیائے ضرورت سے دانستہ طور پر محروم رکھتا ہے۔

دنیا کے تقریباً تمام بڑے رہنماؤں نے اپنے قوم کی تشکیل اور شفاف ترین طرز حکمرانی کی اساس ایک کرپشن فری انتظامی مشینری پر رکھی مگر افسوس ہم تاریخ کے ابتدائی دور میں ہی سیاسی اکھاڑپچھاڑ اور داخلی سازشوں اور محلاتی ریشہ دوانیوں سے اس قدر گھائل ہوئے کہ آج بھی ہمیں دہشتگردی کے عفریت اور بے پناہ انسانی جانوں کی قربانی کے باوجود باہر سے مسلط کردہ پانامہ لیکس کی ایک نئی آزمائش کا سامنا ہے۔

اس امتحان کا مطالبہ بھی احتساب سے مشروط ہے اس لیے ہمارے اہل اقتدار اور سیاسی رہنما فرصت ملے تو خود احتسابی کا کوئی موقع نکالیں اور سوچیں کہ ہر آتی جاتی حکومت نے کس حد تک ملکی سیاست ، معیشت، خارجہ پالیسی، سیکیورٹی ، تعلیم ، صحت اور کروڑوں ابنائے وطن کی خوشحالی اور ان کی مجموعی معاشی آسودگی کے لیے کتنی پر خلوص جدوجہد کی ، ہر ممکن کوشش کرنے کی تو ہر حکومت دعویدار رہی ہے لیکن کرپشن، رشوت ، اقربا پروری ، سفارش و ظلم پرستی کے خوفناک پنجوں میں گرفتار معاشرے کو جمہوری ثمرات کا بدستور انتظار ہے جب کہ جوابدہی سے بے نیاز و آزاد اور بالاتر سیاست بے اعتباری کے باعث عوامی امیدوں کو مایوسیوں میں بدل رہی ہے، احتساب لازم ہے، اب تک اقتدار کی غلام گردشوں میں جو کچھ ہوتا آیا ہے اسے دائرہ احتساب میں لانا مشکل ہے تو جو رواں سیاسی و معاشی نظام ہے اس کی تشکیل نو اور تطہیر تو کی جاسکتی ہے۔

پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں کرنیوالوں کو پارلیمنٹ کے کردار اور منتخب ارکان کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ عوام کو جن نامساعد حالات ، مہنگائی اور غربت و بیروزگاری کے جو مسائل درپیش ہیں وہ کب حل ہونگے، لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، معاشرے میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے، جرائم کا گراف بڑھ گیا ہے، ایسے بہیمانہ اور لرزہ خیز واقعات رونما ہورہے ہیں جو معاشرتی قدروں کے زوال کی علامت ہیں، سیاست ، معیشت اور سماج کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے، تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور غریب عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں درکار ہیں، صوبائی حکومتیں کیا کررہی ہیں۔

حکمران اپنے لائف اسٹائل اور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے اہل وطن کے شب ورز کی تلخیوں کا جائزہ لیں تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جمہوریت ایک کھلے سماج کی مرہون منت ہوتی ہے جہاں قانون کی مکمل حکمرانی ہو، روشن خیال ، باضمیر اور عوام کے دکھ سکھ میں ہمہ وقت شریک سیاسی رہنما اور کارکن ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہوں اور عوام کے لیے زندگی جہنم نہ ہو۔ مسلم لیگ ن کو تیسری بار اقتدار ملا ہے اور اس کی یہ سیاسی اننگ فیصلہ کن ہونی چاہیے۔

دنیا ہمہ جہتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے ، پاکستان کو بھی داخلی و خارجی کئی دریا پار کرنے ہیں، سیاسی نظام اور طرز حکمرانی ایک پیراڈائم شفٹ کی متقاضی ہے، کرپشن ، بد انتظامی ، بدامنی اور مجرمانہ مافیاؤں کے سیاسی و مالیاتی گٹھ جوڑ کو توڑنے کا یہی وقت ہے ۔ عقل مند را اشارہ کافی است۔