بلوچستان بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب

بلوچستان بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا اور دنیا بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی سمت جاتے ہوئے جلد دیکھے گی


Editorial April 14, 2016
بلوچستان بھارتی ایجنڈا کا اصل میدان بنایا گیا جہاں بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے تسلسل کی تاریخ کافی پرانی ہے فوٹو: فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دشمن ایجنسیاں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے میں ملوث ہے۔ ان خیالات کا اظہار آرمی چیف نے منگل کو گوادر میں ''پاک چین اقتصادی راہداری اور بلوچستان میں امن اور خوشحالی'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اپنے اس خطاب میں انھوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر بھارتی مذموم عزائم کی تکمیل میں مصروف را کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کے خلاف ایک طرح کا فرد جرم سنایا ہے جو زمینی حقائق کے تناظر میں اس امر کو تقویت دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا اور وہ درپردہ ایک برادر ملک کو دھوکا دینے کی سازباز کر رہا ہے جس کے پاکستان سے تاریخی، ثقافتی ، مذہبی اور گہرے تزویراتی رشتے ہیں ، بھارت تاریخی رشتوں سے مرصع موتیوں کی اس مالا کو توڑنے اور بکھیرنے کی تگ ودو میں ہے، کلبھوشن کی جاسوسی مہم بھارت کی اسی کثیر جہتی مخاصمانہ ڈپلومیسی کی ناکامی کا ایک بڑا جھٹکا ہے جس نے بھارتی حکمرانوں کو پریشان کردیا کہ وہ 'را' سے کس طرح کی تخریبی سرگرمیاں کروائیں جس سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہو۔

اس مقصد کے لیے بلوچستان بھارتی ایجنڈا کا اصل میدان بنایا گیا جہاں بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے تسلسل کی تاریخ کافی پرانی ہے، جب امریکی دانشور، مورخ اور تجزیہ کار سلیگ ہیریسن نے بلوچستان کی ماضی کی شورش اور اس کے افغانستان سے تعلق کے حوالے سے جو تجزیہ اپنی کتاب میں پیش کیا تھا اس میں بھارتی ریشہ دوانیوں کی جھلک ملتی تھی ۔ یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ پاکستان کی سابق حکومتوں نے تواتر سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خلاف احتجاج کیا، بھارتی ناظم الامور اور دیگر اعلیٰ سفارتکاروں کی طلبی ہوئی ، مصر میں حرم الشیخ کے مقام پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارتی مداخلت اور اس کے شواہد کے حوالے سے عالمی برادری اور بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے بھی بات کی تھی مگر دنیا کے ہر فورم پر بھارت اسے الزام تراشی قرار دیکر پہلوتہی کرتا رہا۔

تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے دہشتگردی اور طالبان سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف فاٹا میں جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو صورتحال بدل گئی ، دہشتگردوں کے لیے اپنے ٹھکانوں میں رہنا مشکل ہوگیا ، دہشتگردی کی کمر ٹوٹ گئی ، جس کے بعد بلوچستان کی طرف توجہ دی گئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیوں سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا گیا، کلبھوشن یادیو نے ویڈیو میں جو اعترافات کیے وہ دنیا نے سنے، مگر بھارتی حکام اپنے جاسوس کے دفاع میں ناکامی کا کڑوا گھونٹ پینے کے بعد ان سوالوں کے جواب دینے سے گریزاں ہیں جو کلبھوشن کی بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں دہشتگردی اور تخریبی کارروائیوں کے ہولناک پلان اور منظم نیٹ ورک کی فعالیت سے متعلق ہیں۔

پاکستان نے برادر ملک ایران سے بھی کلبھوشن کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھرپور معاونت کی درخواست کی، جس کے جواب میں ایران نے بعض تحفظات کے سفارتی ذرایع سے اظہار کے بعد ہر ممکن تعاون کی پیشکش اس اعلان کے ساتھ کی کہ ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ بلوچستان کی علیحدگی کی مہم جوئی میں شامل سیاسی قوتوں کو بھارتی حمایت حاصل رہی ، بھارت کی طرف سے تخریبی کارروائیوں کے لیے فنڈنگ بھی کوئی سر بستہ راز نہیں بلکہ بھارت آج بھی خاموش اس لیے ہے کہ اسے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد ایک عالمی فال آؤٹ اور شرمندگی کا ڈر ہے، مگر حقائق کو جھٹلانا بھارتی ڈپلومیسی کا شیوہ ہے۔

جنرل راحیل شریف نے درست کہا کہ بھارت نے سی پیک کو کھلے عام چیلنج کیا۔ اسے اقتصادی راہداری پسند نہیں، وہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر حریصانہ نظر رکھے ہوئے ہے، جسے مودی سرکار گوادر کے نعم البدل کے طور پر چین و پاکستان کے مقابل کھڑا کرنے کے تزویراتی جنون میں مبتلا ہے، بھارت نے افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخیل ہونے کا کوئی موقع ضایع نہیں کیا، اس نے بلوچستان میں را کے توسط سے بڑی ہمہ جہتی ''سرمایہ کاری'' کی، جاسوسی نیٹ ورک کو متحرک رکھا اور ان عالمی قوتوں سے ساز باز جاری رکھی جو بلوچ قوم پرست مزاحمت کاروں اور شورش کو بڑھاوا دینے والے عناصر کی غیرمرئی معاونت میں پیش پیش تھیں۔

اس لیے بھارت بلوچستان میں ملوث ہونے کے الزام بلکہ جرم سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ بلوچستان میں مداخلت بھارت کو مہنگی پڑگئی ہے، اب کلبھوشن فیکٹر کا لیور پاکستان کے ہاتھ میں ہے، بھارت کے لیے یہی راستہ ہے کہ وہ بلوچستان سے را کی واپسی کا اعلان کرے۔ اسے نکیل ڈالے۔ بلوچستان بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا اور دنیا بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی سمت جاتے ہوئے جلد دیکھے گی۔