نیشنل اکیڈمی ذمہ داری مدثر کی’’نذر‘‘ کرنے کا امکان بڑھ گیا

سابق کرکٹر نے عہدہ سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی، مکمل اختیارات مانگ لیے


Sports Reporter April 14, 2016
سابق کرکٹر نے عہدہ سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی، مکمل اختیارات مانگ لیے۔ فوٹو: فائل

ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا عہدہ مدثرکی ''نذر'' کرنے کاامکان بڑھ گیا، انھوں نے ذمہ داری سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کرکٹ مسلسل زوال پذیر ہے،ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20میں ناقص کارکردگی نے شائقین میں مایوسی پھیلا دی، دوسری طرف دبائو کا شکار پی سی بی میں تبدیلیوں کی لہر چل پڑی ہے،دنیا کے مختلف ملکوں میں قائم کرکٹ اکیڈمیز قومی ٹیموں کو تکنیکی اور جسمانی طور پر انٹرنیشنل معیار کے حامل کھلاڑی فراہم کررہی ہیں لیکن پاکستان میں اس کی حیثیت ایک تفریحی مرکز یا قیام گاہ کی بن چکی ہے۔

ان حالات میں پی سی بی لاہور میں قائم نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو موثر اور فعال بنانے کی تدبیریں تلاش کررہا ہے۔اس کی باگ ڈور سنبھالنے کیلیے مدثر نذر کو موزوں ترین انتخاب کے طور پر دیکھا جانے لگا، سابق آل رائونڈر کرکٹ کے انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،وہ اس وقت دبئی میں آئی سی سی گلوبل کرکٹ اکیڈمی کے ساتھ بطور ہیڈ کوچ وابستہ ہیں، مدثر اس سے قبل اسی حیثیت میں پی سی بی کیلیے بھی کام کرچکے،ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ کا عہدہ بھی ان کے پاس رہا ہے، ذرائع کے مطابق بورڈ حکام کی مدثر نذر سے بات چیت جاری ہے۔

انھوں نے ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا عہدہ سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی، البتہ سابق کرکٹر نے مکمل اختیارات مانگ لیے ہیں،انھوں نے یہ یقین دہانی طلب کی کہ کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی،آئندہ ہفتے چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی دبئی میں ہونگے، اس دوران ان کی مدثر نذر سے ملاقات میں حوصلہ افزا پیش رفت کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بورڈ سابق کرکٹر کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا ذہن بنا چکا،اگرچہ وہ اس وقت آئی سی سی گلوبل اکیڈمی میں بھاری معاوضہ وصول کررہے ہیں تاہم پاکستان کرکٹ کیلیے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرچکے،اگر بورڈ سربراہان سے ملاقات میں اختیارات اور مالی معاملات سمیت اطمینان محسوس کیا تو این سی اے میں جدید کرکٹ سے متعلق اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے پلیئرزکے کھیل کا معیار بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مدثر نذر کے پہلے دور میں اکیڈمیز کی ٹیمیں بھی قومی ایونٹ میں شرکت کیا کرتی تھیں،اس کے ساتھ مختلف کارآمد سرگرمیاں بھی یہاں جاری رہتیں لیکن بعد ازاں بائیومیکنک لیب سمیت کئی منصوبے سفید ہاتھی بن کر رہ گئے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کیلیے نئے ہیڈکوچ کا تقرر مئی کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا،انتخاب ممکنہ طور پر بھارت میں جاری آئی پی ایل میں شریک کوچز سے کیا جائے گا،وقار یونس کا خلا پُر کرنے کیلیے نئے کوچ کے انتخاب میں رمیز راجہ اور وسیم اکرم کا کردار اہم ہوگا، سابق پیسر اس وقت آئی پی ایل میچز کیلیے بھارت میں موجود ہیں جہاں وہ امیدواروں سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے، 2 سابق آسٹریلوی کرکٹرز کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹام موڈی آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم سے منسلک ہیں جبکہ ڈین جونز نے پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے کوچنگ کے فرائض انجام دیے تھے تاہم انھیں متنازع ہونے کی وجہ سے نظر انداز کیا جاسکتا ہے، اس صورت میں ٹام موڈی کی خدمات لینے کے امکانات بڑھ گئے، نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان اگلے ہفتے تک کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم کی آئندہ چند ماہ تک کسی قسم کی مصروفیات نہیں اور وہ جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرے گی جہاں میزبان کے خلاف 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی20 میچ کھیلنا ہے،اس سے قبل انتظامی امور میں سدھار اور کرکٹرز کی کارکردگی میں نکھار لانے کا اچھا موقع ہوگا۔