چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن اور پولیس اہلکاروں کی شہادتیں

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف شروع کیے گئے۔


Editorial April 14, 2016
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف شروع کیے گئے۔ فوٹو؛ آن لائن

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ضرب آہن کے سلسلے میں راجن پور اور رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران دس پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ 25اہلکاروں کو ڈاکوؤں نے یرغمال بنا لیا۔

رحیم یار خان میں آپریشن ضرب آہن تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا' پولیس ذرایع کے مطابق انھیں اطلاع ملی کہ کچا جمال میں سو سے زیادہ ڈاکو موجود ہیں جس پر پولیس ان کے خلاف کارروائی کے لیے کشتیوں کے ذریعے کچا جمال میں داخل ہوئی تو ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایک ایس ایچ او بھی شامل ہے جب کہ یرغمال بنائے گئے اہلکاروں میں دو ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او بھی شامل ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ڈاکوؤں نے پولیس کے زیر استعمال ایک وائرلیس سیٹ' اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹ بھی قبضہ میں لے لیں' بعدازاں گینگ کے سرغنہ چھوٹو نے اسی وائرلیس سیٹ کے ذریعے پولیس کو دھمکی دی کہ وہ کچے کے علاقے میں اپنی چوکیاں ختم کر دیں ورنہ یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دیں گے۔ڈاکو گینگ کی دھمکی کے بعد پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن عارضی طور پر بند کر دیا گیا اور رینجرز سے مدد طلب کر لی گئی ہے۔

اس آپریشن میں آٹھ اضلاع کے 16سو زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا جب کہ اس کی نگرانی آئی جی پنجاب کرتے رہے۔ پولیس کی اس کارروائی سے اس کی تربیت' مقابلے کے لیے مہارت اور بہتر منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ سولہ روز تک پنجاب پولیس کی بھاری نفری سو ڈاکوؤں پر قابو نہ پا سکی اور دو تین ڈاکوؤں کو ہلاک کرنے کے سوا اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

اخباری خبروں کے مطابق ڈاکو قبضے میں لیے گئے پولیس وائرلیس سیٹ کے ذریعے دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر آپریشن بند نہ کیا گیا تو یرغمال بنائے گئے تمام پولیس اہلکاروں کو ایک ایک کر کے قتل کر دیا جائے گا۔ آئے روز پولیس حکام یہ بیانات دیتے رہتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں' ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کردیں گے خواہ اس کے لیے انھیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔ کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانی تو ضرور دی مگر انھیں ڈاکوؤں کے مقابلے میں پسپا ہونا پڑا۔ اس مقابلے کے بعد پولیس فورس کی کارکردگی اور تربیت کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھرتے ہیں۔

پولیس افسروں نے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی سے قبل درست منصوبہ بندی کیوں نہ کی۔ شاید ان کا خیال ہو گا کہ جیسے ہی وہ کارروائی کریں گے ڈاکو انھیں دیکھ کر بھاگ جائیں گے مگر جب مقابلہ ہوا تو انھیں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ایسی بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ڈاکوؤں کے خلاف یہ کارروائی عجلت میں کی گئی اور ناقص حکمت عملی کے باعث پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ عوامی حلقے یہ تنقید کرتے ہیں کہ پولیس کی تربیت میں بہت سی خامیاں موجود ہیں 'وہ نہتے اور گرفتار شدہ ڈاکوؤں کو تو ''مقابلے'' میں ہلاک کر سکتی ہے مگر وہ حقیقی معنوں میں ہونے والے مقابلے میں ڈاکوؤں یا دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ پنجاب بھر کے 16 سو سے زائد پولیس اہلکار سو ڈاکوؤں کے سامنے بے بس ہو گئے۔

اس مقابلے سے یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکو پولیس کے مقابلے میں زیادہ مہارت اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں۔ ان کی منصوبہ بندی بھی بہتر ہے۔اب یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ اگر ڈاکوؤں یا دہشت گردوں کا کوئی طاقتور گروہ شہری آبادیوں پر حملہ آور ہو جائے تو کیا ہماری پولیس اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ ان کا مقابلہ اور شہریوں کا دفاع کر سکے۔ اصل معاملہ پولیس افسروں میں ذہانت' منصوبہ سازی اور تربیت کا فقدان ہے' جوانوں کو غیر معمولی صورت حال میں لڑنے کی تربیت نہیں' پاک فوج تو دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہی ہے 'ایسا اس لیے ہے کہ پاک فوج کے پاس بہتر اسلحہ اور جنگی مہارت ہے۔

چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کرنے سے پہلے ان پہلوؤں پر غور ہونا چاہیے تھا کہ کیا اس فورس یہ آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ کیا اس کے پاس جدید اسلحہ' رات میں دیکھنے والی عینکیں اور اطلاعات کا جدید سسٹم موجود ہے؟اگر پولیس فورس یہ آپریشن کرنے کے قابل نہیں تھی تو پولیس کے اعلیٰ حکام کو آپریشن میں جانے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر یہ آپریشن رینجرز یا پاک فوج کے سپرد پہلے ہی کر دیا جاتا تو چھوٹو گینگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ پولیس کے جن جوانوں نے ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہادتیں پیش کی ہیں 'وہ قابل فخر ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹو گینگ کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا آپریشن سے پیچھا نہ ہٹا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی انکوائری ہونی چاہیے کہ آپریشن کی منصوبہ بندی میں کہاں غلطی ہوئی اور اس کا ذمے دار کون ہے۔