چھوٹو گینگ سمیت تمام قانون شکن مافیاز کا خاتمہ کیا جائے

پنجاب کے جس علاقے میں اب آپریشن ہو رہا ہے وہ بھی انتہائی دشوار گزار دلدلی اور جنگلات میں گھرا ہوا علاقہ ہے


Editorial April 17, 2016
ضرورت اس امر کی ہے کہ اب چھوٹو گینگ سمیت تمام قانون شکن مافیاز کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ہر جگہ ریاستی رٹ قائم ہو سکے۔ فوٹو: آن لائن

KARACHI: جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں کچے کے علاقہ میں چھوٹو گینگ کے خلاف جاری آپریشن ضرب آہن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا جب کہ پاک فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور پولیس اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی اور چھوٹو کی زندہ یا مردہ گرفتاری تک فضائی اور زمینی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پنجاب کے جس علاقے میں اب آپریشن ہو رہا ہے وہ بھی انتہائی دشوار گزار دلدلی اور جنگلات میں گھرا ہوا علاقہ ہے جس کے ارد گرد دریائے سندھ پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس جزیرے تک رسائی آسان نہیں جہاں ڈاکووں نے پناہ لے رکھی ہے لہذا ان تک پہنچنا کمانڈو ایکشن کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا جس کی تیاری جاری ہے۔

ڈاکوؤں نے چونکہ پولیس اہلکاوں کو شہید کرنے کے علاوہ متعدد پولیس والوں کو یرغمال بھی بنا رکھا ہے اس لیے وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انھیں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا تو ان کی طرف سے یرغمالی پولیس افسروں کی زندگی کی ضمانت نہیں دی جائے گی گویا انھوں نے یرغمالیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے جو آپریشن کرنے والی فورسز کے گئے ایک پیچیدہ رکاوٹ ہے۔ اصل میں ڈاکووں کا اتنی زیادہ طاقت پکڑنے میں ہماری مختلف حکومتوں کی افسوسناک کوتاہی کا قصور ہے۔ ڈاکوؤں کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ تمام جرائم پولیس کی معاونت سے ہی کرتے رہے ہیں۔ بہر حال ماضی کی کوتاہیوں اور غفلت کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے' ضرورت اس امر کی ہے کہ اب چھوٹو گینگ سمیت تمام قانون شکن مافیاز کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ہر جگہ ریاستی رٹ قائم ہو سکے۔