میئر و ڈپٹی میئر کا چناؤ خفیہ بیلٹ سے کرانے کا فیصلہ

جمہوری نظام کے اصل اسٹیک ہولڈر عوام ہیں، کیونکہ غیرجمہوری کارروائیوں سے عوام کا نقصان ہوتا ہے


Editorial April 17, 2016
اشتراک عمل اور جمہوری تعلقات کار سے عوام بلدیاتی اداروں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ فوٹو؛ فائل

سپریم کورٹ نے سندھ میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات شو آف ہینڈ کے تحت کرانے سے متعلق صوبائی حکومت کی درخواست جزوی طور پر مسترد کر دی اور سندھ میں انتخابات کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے صوبے میں میئر اور ڈپٹی میئر کا چناؤ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانے کا حکم جاری کر دیا جب کہ الیکشن کمیشن کو 60 دن میں انتخابی عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ بنچ نے سندھ میں میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے الیکشن کے تنازع میں گزشتہ روز فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعے کو چیف جسٹس نے پڑھ کر سنایا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے شو آف ہینڈ کے ذریعے میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخاب کو چیلنج کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم امتناعی کے ذریعے الیکشن روک رکھا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کا شو آف ہینڈ کے ذریعے بلدیاتی الیکشن کرانے کی بجائے خفیہ رائے شماری کی ہدایت ایک بلیغ، زمینی حقائق سے مربوط اور صائب فیصلہ ہے جو دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں شفاف اور مروجہ انتخابی طریقہ کار کی یاد دلاتا ہے، یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت نے 25 مارچ 2016ء کو استفسار کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو غیر فعال رکھنے سے سندھ حکومت کا مقصد کیا ہے، اسی مقدمہ کے تسلسل میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جس میں منتخب نمایندے مرضی سے ووٹ نہیں دے سکتے، یہ روایت بدلنی چاہیے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ چشم کشا آبزرویشن دی کہ جمہوری نظام کے اصل اسٹیک ہولڈر عوام ہیں، کیونکہ غیرجمہوری کارروائیوں سے عوام کا نقصان ہوتا ہے، متحدہ کے وکیل فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ کہ بلدیاتی اداروں کو چلنے نہیں دیا جا رہا، انھوں نے مقدمہ نمٹانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کو سن کر فیصلہ کر لیا جائے۔

ادھر قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے شو آف ہینڈ کے طریقہ کار پر اصرار کی منطق عجیب تھی، جس کو نہ تو سیاسی جماعتوں کی وسیع تر حمایت حاصل رہی اور نہ بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے نمایندوں کی نمایندگی کرنے والی جماعتوں کی اکثریت نے اس طریقہ کار کو پسند کیا، جب کہ بادی النظر میں شو آف ہینڈ کے حوالے سے سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کو اس بات کی شکایت رہی کہ سندھ حکومت بلدیاتی اداروں اور نمایندوں کو اختیارات کی منتقلی میں دانستہ رکاوٹ ڈال رہی ہے، ان جماعتوں میں سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخابات میں شو آف ہینڈ کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔

اسی مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے جمعے کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 4 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کو قوانین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے لیکن صوبائی حکومت نے موجودہ ترمیم انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد کی اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے الیکشن شیڈول کے بعد بنایا گیا قانون غیر موثر ہے۔

انتخابات سندھ لوکل باڈی ایکٹ 2013ء کے مطابق ہوں گے۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 22 فیصد سے بڑھا کر 33 فیصد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا، عدالت نے سندھ حکومت کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے 2 ہفتوں میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ مخصوص نشستوں پر انتخابات کوٹے کے مطابق جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سندھ میں چیئرمین وائس چیئرمین کے انتخابات سندھ لوکل باڈی ایکٹ کے تحت کرائے جائیں۔

دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھر میں میئر و ڈپٹی میئر کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے کرانے کے فیصلہ کا زبردست خیر مقدم کیا ہے اور اسے حق و سچ اور تمام مظلوم قومیتوں کی فتح قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ثابت ہو گیا کہ سندھ حکومت نے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب کے لیے انصاف سے کام نہیں لیا اور الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد الیکشن قانون میں ترامیم کر کے بلدیاتی نظام اور منتخب بلدیاتی نمایندوں کو ان کے اختیارات اور وسائل سے محروم رکھنے کی کوشش کی ہے جو جمہوری حکومت کا سراسر غیر جمہوری اقدام تھا۔

بہر حال اب بھی وقت ہے کہ صوبہ سندھ، ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی کو درپیش چیلنجوں اور سیاسی و معاشی مسائل کے پیش نظر بلدیاتی اداروں کی بحالی اور اختیارات کی منتقلی میں مزید تاخیر نہ ہو بلکہ وسیع القلبی اور سیاسی وژن کو بروئے کار لاتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے تا کہ مقامی حکومت کا سیٹ اپ جلد قائم ہو اور میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین و وائس چیئرمین منتخب ہونے کے بعد منتخب نمایندے شہریوں کے گونا گوں مسائل کے حل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں، اسی اشتراک عمل اور جمہوری تعلقات کار سے عوام بلدیاتی اداروں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔