چیمپئنز ٹرافی کا خاتمہ پی ایچ ایف نے صدائے احتجاج بلند کر دی

پاکستانی حکام کا ایف آئی ایچ سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ


Sports Reporter April 21, 2016
پاکستانی حکام کا ایف آئی ایچ سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: پی ایچ ایف نے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کو ختم کرنے پر صدائے احتجاج بلند کردی، ایف آئی ایچ سے رابطہ کر کے اس فیصلے پر نظر ثانی کیلیے درخواست کی جائے گی۔

ابتدائی ایڈیشن کی فاتح ٹیم کے کپتان اصلاح الدین بھی میدان میں آگئے، ان کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کو ختم کرنا پاکستانی ہاکی تاریخ کو مسخ کرنے کے برابر ہے، یاد رہے کہ40 سال قبل شروع ہونے والے ایونٹ کی جگہ ایف آئی ایچ نے ورلڈ ہاکی لیگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، 2018 چیمپئنز ٹرافی تاریخ میں آخری بار منعقد ہوگی، انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے18اپریل کو عالمی سطح پر ہاکی کا ایک نیا ڈھانچہ متعارف کرایا تھا جس کا نفاذ 2019 سے ہو گا اور اس میں چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کی سال کے ایونٹس میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

اس نئے اسٹرکچر کے تحت ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا طریقہ کار یہی رہے گا لیکن اولمپک کے لیے کوالیفائی کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے، تاہم اس کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی رضامندی درکار ہے، ایونٹ ختم کرنے کے فیصلے نے جہاں ہاکی شائقین کو مایوس کیا وہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے1978میں چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کو متعارف کرایا تھا، میگا ایونٹ کا انعقاد 35 بار ہوا جس میں پاکستان نے3مرتبہ کامیابی حاصل کی، دنیائے ہاکی کی6 ٹاپ ٹیمیں ہر سال ایک دوسرے سے مقابلے کیلیے آمنے سامنے آتی تھیں لیکن ایف آئی ایچ کی طرف سے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کو ختم کرنے کے فیصلے سے پی ایچ ایف کو بہت مایوسی ہوئی، ایف آئی ایچ نے اس بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا، عالمی باڈی سے رابطہ کرکے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی جائیگی ۔

ادھر اولین چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان اصلاح الدین نے چیمپئنز ٹرافی کو ختم کرنے پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کا آئیڈیا پیش کر کے اس کی بنیاد رکھی، اس ایونٹ سے پاکستانی کھلاڑیوں، پاکستان ہاکی اور عوام کی دلی و جذباتی وابستگی ہے، اسے ختم کرنا پاکستان ہاکی کی تاریخ کو مسخ کرنے کے برابر ہے، انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ایف آئی ایچ میں نمائندگی کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس فیصلے سے لاعلم رہی ہو، اگر ایسا ہوا بھی ہے تو پاکستان کو اس فیصلے کے بعد شدید احتجاج ریکارڈ کرا کر چیمپئنز ٹرافی کی بحالی کیلیے کوششوں کا آغاز کرنا ہوگا۔