توہین عدالت پرسیکشن افسرپشاورہائی کورٹ سے گرفتار

عدم پیشی پرسیکریٹری پی ایس سی کے وارنٹ،لاپتہ شہری کے بارے میں رپورٹ طلب


Numainda Express November 15, 2012
عدم پیشی پرسیکریٹری پی ایس سی کے وارنٹ،لاپتہ شہری کے بارے میں رپورٹ طلب فوٹو: فائل

پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمدخان اورمسزجسٹس ارشاد قیصرپرمشتمل 2 رکنی بینچ نے توہین عدالت کے مرتکب محکمہ تعلیم کے سیکشن افسر کو کمرہ عدالت میںہتھکڑیاںلگوادیںجبکہ عدالتی ریکارڈ میں جعلی حکم نامے رکھنے پر سیکریٹری اور ڈائریکٹرایجوکیشن کو شوکاز نوٹس جاری کردیے۔

فاضل بینچ نے شائع ہونے والی خبرکانوٹس لیاجس میں بتایاگیاکہ محکمہ تعلیم کے سیکشن افسرہدایت اللہ نے چیف جسٹس کے متعلق تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔فاضل بینچ نے اس موقع پرصحافی کوعدالت طلب کیاجس نے شائع ہونے والی خبر کی تصدیق کی اوردیگرصحافیوں نے بھی سیکشن افسرکے عدالت سے متعلق رویے کی گواہی دی جس پر فاضل بینچ نے مذکورہ سیکشن افسرکو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں ہتھکڑیاں لگوادیںاور شوکازنوٹس بھی جاری کیاجبکہ فاضل چیف جسٹس نے کہاکہ سیکریٹری ا ورڈائریکٹرایجوکیشن نے عدالت میںبھی غلط بیانی کی ہے اورجعلی حکم نامے پیش کیے جس پرفاضل بینچ نے تحقیقات کے احکامات جاری کرتے ہوئے دونوں ا فسروںکوشوکازنوٹس جاری کردیا۔

ادھرہائی کورٹ نے عدالتی احکامات پرعدالت کے روبرو پیش نہ ہونے پرسیکریٹری پبلک سروس کمیشن کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے،دریں اثنا پشاورہائی کورٹ نے تھانہ مچنی کی حدودسے لاپتہ شہری کے بارے میں وزارت دفاع کورپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس بارے میںتمام خفیہ ایجینسیوںسے رپورٹ طلب کرکے تحریری جواب جمع کرائیں۔علاوہ ازیںانسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے متھرا میںنجی اسکول میںبم دھماکے کے الزام میںگرفتار ملزم کوجرم ثابت ہونے پر14 سال قیدبامشقت کی سزاسنادی جبکہ عدم ثبوت کی بناء پر9دیگرملزموں کوبری کردیا۔