ہاکی سلیکشن کمیٹی اورمینجمنٹ میں اختلافات کی چنگاریاں بھڑک اٹھیں

موجودہ کھلاڑیوں میں اعتماد کی انتہائی کمی ہے، سیکریٹری فیڈریشن اور ہیڈ کوچ خواجہ جنید


Sports Reporter April 23, 2016
موجودہ کھلاڑیوں میں اعتماد کی انتہائی کمی ہے، سیکریٹری فیڈریشن اور ہیڈ کوچ خواجہ جنید فوٹو: فائل

قومی ہاکی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ میں اختلافات کی چنگاریاں بجھنے کے بجائے مزید بھڑکنا شروع ہو گئیں، حنیف خان نے بااختیار ٹیم مینجمنٹ کا مطالبہ کر دیا، سابق کپتان نے پاکستان ہاکی فیڈریشن پر واضح کیا کہ آئندہ اس طرح کام نہیں چلے گا، مستقبل میں ٹیم کا انتخاب مینجمنٹ کی مرضی سے ہونا اور سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار نہیں ملنا چاہیے۔

سلطان اذلان شاہ کپ کے دوران ٹیم میں اوریجنل رائٹ آؤٹ اور سینٹر فارورڈ ہی نہیں تھے، اگر ان دونوں پوزیشنز پر صحیح سلیکشن ہوتی تو مثبت نتائج آسکتے تھے، ادھر سیکریٹری فیڈریشن شہباز احمد سینئر اور ہیڈ کوچ خواجہ جنید نے کہاکہ موجودہ کھلاڑیوں میں اعتماد کی انتہائی کمی ہے، اگر18پلیئرزکے ساتھ 20 اولمپئن کوچز کو بھی تعینات کردیا جائے تو بھی جیت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہاکی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ میں اختلافات کی چنگاریاں بجھنے کے بجائے مزید بھڑکنا شروع ہو گئی ہیں،اب ٹیم منیجر حنیف خان نے ٹیموں کا انتخاب کرتے ہوئے تمام اختیارات مانگ لیے ہیں۔

یاد رہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ سے قبل سلیکشن کمیٹی اورحنیف خان کے درمیان ٹیم سلیکشن پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے، اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم7 ٹیموں میں5ویں پوزیشن حاصل کرسکی، غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں حنیف خان نے کہاکہ اذلان شاہ کپ کے لیے سلیکشن کمیٹی نے جو ٹیم منتخب کرکے مینجمنٹ کے حوالے کی اس میں اوریجنل رائٹ آؤٹ اور سینٹر فارورڈ ہی نہیں تھے، اگر ان دونوں پوزیشنز پر صحیح سلیکشن ہوتی تو مثبت نتائج آسکتے تھے، انھوں نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ محنت ٹیم مینجمنٹ اور ٹیم کی سلیکشن کوئی اورکرے، اگرکسی کھلاڑی کے سلیکشن پر اعتراض ہے تو اس کا ٹرائل لے لیں، تاہم یہ نہیں ہوسکتا کہ سلیکشن کمیٹی ٹیم مینجمنٹ کی دی ہوئی ٹیم کو یکسر مسترد کرکے یہ کہہ دے کہ اس نے جو ٹیم منتخب کرلی وہی ٹورنامنٹ میں جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ فیڈریشن یقینی طور پر ٹیم سلیکشن کے معاملے پر مینجمنٹ پر نظر رکھے کہ وہ سلیکشن میں پسند اور ناپسند تو نہیں کررہی، وہ یہ بات پوری دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹیم مینجمنٹ سلیکشن کے معاملے میں کسی غلط کھلاڑی کو منتخب نہیں کرسکتی کیونکہ وہ کارکردگی پر جوابدہ ہوتی ہے، حنیف خان نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی 2 یا 3 افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جوکیمپ کا دورہ اور کھلاڑیوں پر نظر رکھتی رہے، ہمارے یہاں تو سلیکشن اس طرح ہوتی ہے کہ صرف ٹرائلز والے دن سلیکٹرز آئے، چائے بسکٹ سے تواضع ہوئی دستخط کیے اور گھر کی راہ لی، حنیف خان نے کہا کہ ٹیم کی وطن واپسی کے بعد انھوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر خالد کھوکھر اور سیکریٹری شہباز احمد سے بات کی اور ان سے کہہ دیا کہ آئندہ اس طرح کام نہیں چلے گا، انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی سب سے بڑی کمزوری دباؤ میں کھیلنے کا فقدان ہے۔

اگر پاکستان کو ہاکی میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے تو کھلاڑیوں کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا، اس مقصد کے لیے چھوٹے چھوٹے شہروں سے ٹیلنٹ سامنے لانا ہوگا، جونیئر سطح پر مقابلے کرانے ہونگے، صرف کیمپ کے30، 40کھلاڑیوں میں سے ٹیمیں منتخب کرنے سے آپ ورلڈ چیمپئن نہیں بن سکتے، ادھر لاہور میں میڈیا سے بات چیت میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اولمپئن شہباز احمد سینئر اور پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ خواجہ جنید نے کہا کہ موجودہ کھلاڑیوں میں اعتماد کی انتہائی کمی ہے، اگر18کھلاڑیوں کے ساتھ 20 اولمپئن کوچز کو بھی تعینات کردیا جائیں تو بھی جیت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، انھوں نے کہا کہ ٹاپ رینکنگ ٹیموں کا معیار پاکستان سے بہت اونچا ہو گیا ہے۔

ہمارے موجودہ کھلاڑیوں کا معیار یہاں تک پہنچ گیا کہ کوئی کھلاڑی نہیں چاہتا کہ میچ کے دوران گیند اس کے پاس آئے، جب ایسا معاملہ ہوگا تو کامیابی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ شہباز سینئر نے کہاکہ میں تنقید سے نہیں ڈرتا، ملک کے لیے جو اچھا ہو وہی کام کروںگا، اس موقع پر پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ خواجہ جنید نیکہاکہ دنیا کا اچھے سے اچھا کوچ بھی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا،اذلان شاہ کپ میں انٹرنیشنل رینکنگ کی نمبر11ٹیم کا دنیا کی ٹاپ رینکنگ ٹیموں کے ساتھ مقابلہ تھا جس میں نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے، انھوں نے کہا کہ اگر ٹیم جیت جائے تو کھلاڑی ہیرو بن جاتے ہیں اگر ہار جائے تو تنقید کوچز کے حصے میں آتی ہے، اذلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے ڈیولپمنٹ اسکواڈ لے کر گئے تھے اسی وجہ سے نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے۔