غیرقانونی دولت کی پناہ گاہیں اور مغربی ممالک

اب سوال یہ ہے کہ کیا یورپی ممالک اپنی کمپنیوں کو کسی ممکنہ خطرے سے دوچار کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے


Editorial April 25, 2016
حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس چوری کے اس عمل میں امریکا اور یورپی ممالک سہولت کار کا کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

پانامہ میں آف شور کمپنیاں رجسٹرڈ کرنے والی لا فرم کی خفیہ دستاویزات جاری ہونے کے بعد عالمی سیاست میں زلزلہ آ گیا۔ مختلف حکومتوں کے وزرائے اعظم اور سربراہان مملکت کے خفیہ اکائونٹس آف شور کمپنیوں میں منظرعام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید احتجاج شروع ہو گیا' عوامی دبائو اس قدر بڑھا کہ آئس لینڈ اور ایکواڈور کے وزرائے اعظم کو مجبور ہو کر استعفیٰ دینا پڑا' برطانیہ میں بھی عوام سڑکوں پر آ گئے اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا لیکن ڈیوڈ کیمرون نے اپنا بھرپور دفاع کیا اور تمام تر عوامی دبائو کے باوجود ابھی تک وہ برسراقتدار چلے آ رہے ہیں۔

آف شور کمپنیوں کی خفیہ دستاویزات سامنے آنے پر یورپی ممالک کے مالیاتی نظام کے شفاف ہونے پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں کہ آخر کئی عشروں سے یہ مالیاتی دہشت گردی کیسے جاری ہے اور یورپی ممالک نے ان دولت چھپانے والی جنتوں کی جانب اب تک توجہ کیوں نہیں دی۔ پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتوں پر عوامی دبائو بڑھنے کے باعث یورپی یونین بھی متحرک ہو گئی اور اب یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ کے ایک اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس چھپانے والی ان پناہ گاہوں کی فہرست تیار کرکے ان پر پابندی عائد کر دی جائے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے منظور ہو جاتا ہے تو ٹیکس بلیک لسٹ ملکوں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یورپی ممالک کے وزرائے خزانہ کمپنیوں کے مالکان کے بارے میں ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے پر متفق ہو گئے ہیں جب کہ یورپی یونین ایسے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت ان بینکوں اور ٹیکس کے مشیروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو اپنے کلائنٹس کو دولت بیرون ملک چھپانے میں مدد دیتے ہیں۔

یورپی یونین کی طرف سے ٹیکس چھپانے والی ان جنتوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ درست ہے لیکن دوسری جانب ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ کارروائی کوئی آسان کام نہیں اس سلسلے میں بہت سی رکاوٹیں پیش آ سکتی اور اگر یورپی یونین کے ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو اس منصوبے کا پایہ تکمیل تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

یورپی یونین میں شامل 28ممالک کی ٹیکس ہیون یا ٹیکسوں کی چھوٹ کے حوالے سے فہرست بھی مختلف ہے اور اس حوالے سے پابندیاں لگانے کے فیصلے میں اگر مجموعی طور پر اتفاق نہیں ہوتا تو ممکن ہے انفرادی طور پر کوئی ملک اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کردے۔ یورپی ممالک کے مابین ایک مشترکہ فہرست بنانا کے لیے بات چیت جاری ہے اور یہ پیچیدہ کام ہے ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس میں کون کون سی حدود یا دائرہ اختیار شامل ہیں' اس سے پہلے بھی یورپی یونین 'عدم تعاون کی حدود' کے حوالے سے مشترکہ فہرست تیار نہیں کر پائی تھی کیونکہ رکن ممالک کے قومی مفادات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔

یورپی کمیشن نے12 اپریل کو ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت کثیرالاقوامی کمپنیوں کے ٹیکس معاملات کو شفاف بنانے کے لیے ٹیکس چھپانے والے ممالک میں ان کی سرگرمیوں کو منظرعام پر لانے پر بحث کی گئی تھی۔ اس منصوبے پر یورپی یونین کے ممالک میں اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے سب سے پہلا اعتراض جرمنی نے اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے ملک میں کمپنیوں کے ٹیکس ڈیٹا کو منظرعام پر لانے کی مخالفت کی جائے گی کیونکہ کمپنیوں کی ٹیکس تفصیلات ٹیکس حکام کو دی جانی چاہئیں نہ کہ عوام کو۔ دوسری جانب بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی درپردہ اس منصوبے کی مخالفت کرتی نظر آ رہی اور یہ خدشات ظاہر کر کے خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کو غلط طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے' غیر یورپی کمپنیاں اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں جس سے عالمی مارکیٹ میں کاروباری مسابقت کو نقصان پہنچے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یورپی ممالک اپنی کمپنیوں کو کسی ممکنہ خطرے سے دوچار کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ دوسری جانب تجزیہ نگار بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ سوئٹزر لینڈ' پانامہ' باماس اور دیگر ٹیکس کی جنت کہلانے والے ان ممالک پر کنٹرول کس کا ہے اور وہاں کے مالیاتی نظام کو کون چلا رہا ہے' ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ امریکا اور یورپی ممالک کے ماتحت ہی ہو رہا ہے اور ان تمام حقائق سے امریکا اور یورپی یونین کے ممالک بخوبی آگاہ ہیں' اگر اب بھی پانامہ لیکس اسکینڈل منظرعام پر نہ آتا تو سب نے اس مسئلے سے آنکھیں چرائی رکھنی تھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس چوری کے اس عمل میں امریکا اور یورپی ممالک سہولت کار کا کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں' دنیا بھر میں ہونے والی اسلحے کی غیرقانونی تجارت میں بھی بڑی طاقتوں کا ہاتھ ہے' فٹ بال' گھڑ دوڑ اور دیگر کھیلوں میں ہونے والے جوئے میں بھی یورپی ممالک سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب اگر مالیاتی اسکینڈلز روکنے کے لیے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو اس پر خلوص نیت سے عمل ہونا چاہیے۔