افغانستان کا بحران اور امریکا کی پالیسی

امریکا اپنی اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے


Editorial April 26, 2016
پاکستان نے تو اپنے خطے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کا اعتراف امریکا اور دیگر عالمی قوتیں کرتی رہتی ہیں۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پریس آفس کی ڈائریکٹر الزبتھ ٹروڈیو نے افغانستان میں کار بم حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت اور افغان طالبان کے معاملے میں مسلسل نرمی برت رہا ہے۔ انھوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے اس عزم کہ دہشت گرد گروپوں میں تفریق کے بغیر کارروائی کی جائے گی پر عمل کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 19اپریل کو خفیہ ادارے کے مرکزی دفتر کے باہر خود کش حملہ ہوا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 30افراد ہلاک اور 327 زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ بہت سی کاریں جل گئیں' اس حملے کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے دورہ پاکستان ملتوی کر دیا تھا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک خط میں افغان صدر اشرف غنی سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ افغانستان کی صورت حال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے، ایک جانب امریکا اور افغان حکومت افغان طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دے رہے اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا' چین' افغانستان اور پاکستان پر مشتمل چار ممالک اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔

تو دوسری جانب امریکی اور افغان فورسز کے ساتھ طالبان کی لڑائی بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ کبھی امریکی اور افغان فورسز اپنے حملوں میں افغان طالبان کی ہلاکتوں کا دعویٰ کرتی ہیں تو کبھی اس کے مدمقابل افغان جنگجو گوریلا کارروائیاں کر کے اپنے مخالفوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا یہ کہنا کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے حقیقت میں امریکا نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے کہ تمام تر فوجی قوت' جدید ٹیکنالوجی اور بڑی تعداد میں افغان فورسز کو تربیت دینے کے باوجود وہ افغان طالبان کو شکست نہیں دے سکا اور طالبان جنگجو آج بھی امریکی اور افغان حکومت کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

امریکا اپنی اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان تو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اس نے کسی بھی گروپ کے بارے میں کوئی تفریق نہیں کی جس کا واضح اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ آج شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں ختم ہو چکے ہیں اور وہ ارد گرد کے علاقوں میں چھپ کر اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغان فورسز چند ایک معمولی نوعیت کی کارروائیاں تو کر رہی ہیں مگر اب تک وہ طالبان کے خلاف پاکستانی افواج کی طرزکا بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکیں۔

اگر طالبان خود کش حملوں اور گوریلا کارروائیوں کے ذریعے امریکی اور افغان فورسز کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو یہ افغانستان کے اندر کی لڑائی ہے جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا قطعی درست عمل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اور افغان فورسز پاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں کا دفاع کرنے میں بھی قطعی ناکام ہو چکی ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ افغان دہشت گرد باآسانی سرحد پار کر کے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات میں مہمند ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقے میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستانی پوسٹوں پر حملہ کیا جس کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، اس حملے میں پانچ دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

شکایت تو پاکستان کو امریکا سے کرنا چاہیے کہ وہ اور افغان فورسز سرحدی علاقوں کا دفاعی نظام موثر نہیں بنا سکے اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا کہا جا رہا ہے۔ پاک افغان سرحدی علاقے انتہائی دشوار گزار ہیں اور سرحد کے آر پار قبائل کے آپس میں صدیوں سے رابطے ہیں اسی طرح طالبان گروپوں کے بھی آپس میں رابطے موجود ہیں۔

پاکستان نے تو اپنے خطے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کا اعتراف امریکا اور دیگر عالمی قوتیں کرتی رہتی ہیں لیکن امریکا اور اتحادی فورسز افغانستان کے اندر افغان طالبان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ اگر امریکا اور افغان حکومت افغانستان کو دہشت گردوں سے پاک پرامن علاقہ بنانا چاہتی ہیں تو انھیں سرحدی علاقوں پر نگرانی کا نظام مضبوط اور موثر بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کی طرف توجہ دینی چاہیے۔