جلسے سیاسی بلوغت کا نیا سفر

جمہوریت میں زبان کی نفاست ، لہجے کی شائستگی اہم کردار ادا کرتی ہے


Editorial April 26, 2016
جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے لاہور و کراچی میں دھرنے دیے مگر سیاسی درجہ حرارت مسئلہ نہیں بنا فوٹو: ایکسپریس

مغربی جمہوریت کے حوالے سے مشہور مقولہ ہے کہ جمہوریت ایک ایسی سیاسی کمٹمنٹ ہے جس میں حکمرانوں ، سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن جماعتوں کو جمہوریت کی وہی زبان استعمال کرنی چاہیے جو ملک میں سیاسی ، سماجی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن جائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو گزشتہ روز ملک کے تین بڑے شہروں اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف، پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی کے سیاسی اجتماعات اس سمت میں خوش آیند سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پارٹی کے یوم تاسیس پر پر جوش خطاب کیا اور کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف آج سندھ سے تحریک شروع کررہے ہیں۔

ایم کیو ایم سے الگ ہونے کے بعد کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال اور ان کے رفقاء نے نئی پاک سرزمین پارٹی کی داغ بیل ڈالی اور شہر قائد میں اپنے پہلے عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ گڈگورننس ضروری ہے،اور وہ کراچی کو محب وطن پاکستانیوں کا شہر بنائیں گے۔ ادھر لاہور میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت یکم مئی سے کرپشن کے خلاف ملک گیر احتجاج کریگی۔

جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے لاہور و کراچی میں دھرنے دیے مگر سیاسی درجہ حرارت مسئلہ نہیں بنا، قائدین کی خطابت اور اجتماعات میں شرکا ء کا سیاسی تدبر اور رواداری پر مبنی رد عمل غیر معمولی اور قابل دید تھا جسے ایک سیاسی و پارلیمانی روایت کے طور پر آگے بڑھانا سیاستدانوں کا اولین ذمے داری ہے۔ اس بات سے کوئی سیاست دان انکار نہیں کرسکتا کہ قومی سیاست نے تشدد ، عدم رواداری ، کشیدگی، محاذ آرائی ، الزام تراشی و دشنام طرازی سے بہت نقصان اٹھایا ہے، لہٰذا اعتدال پسندانہ سیاسی طرز عمل کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔

جمہوریت میں زبان کی نفاست ، لہجے کی شائستگی اہم کردار ادا کرتی ہے، ایڈمنڈ برک برطانوی پارلیمنٹ میں طویل تقریریں کرنے والے تاریخ کے عظیم مدبر تھے ، مخالفین ان کے دلائل صبر و تحمل سے سنتے اور انھیں اسی اسپرٹ میں جواب دیتے تھے، پرجوش وہ لوگ بھی تھے لیکن قومی سلامتی، سماجی اقدار، اقتصادی معاملات و سیاسی نظم و ضبط کی جب بات آتی ہے تو منتخب نمایندوں سے قوم ہمیشہ یہی توقع کرتی ہے کہ وہ عوام کے لیے رول ماڈل بنیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ جو روایت مذکورہ سیاسی جلسوں اور دھرنوں میں قائم رہی ہے اسے سیاسی اسپورٹس مین اسپرٹ کی شکل دی جائے اور امید کی جانی چاہیے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر جلسوں میں خطابت سمیت سیاسی رابطوں ، پریس کانفرنسوں یا ٹی وی ٹاک شوز میں پولیٹیکل ڈیبیٹ کی صحت مند روایت کو استحکام ملے گا اور سیاسی قائدین اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔