لیہ زہریلی مٹھائی سے ہلاکتوں کا المناک واقعہ

پاکستان میں کہیں بھی معیاری اور صحت بخش کھانوں کی مناسب چیکنگ کا نظام نہیں


Editorial April 26, 2016
ہیلتھ اینڈ فوڈ ڈپارٹمنٹ کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مذکورہ قسم کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔ فوٹو: فائل

پنجاب کے شہر لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے جب کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ واقعے کو 5 روز گزر جانے کے باوجود بھی زیر علاج متاثرین کو طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکیں ورنہ مزید ہلاکتوں کا سلسلہ روکا جاسکتا تھا۔ حکومت کی جانب سے عوام کو طبی سہولیات کے جو بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آرہی ہے۔ لیبارٹری تجزیہ کے مطابق زہرآلود مٹھائی میں ممنوعہ اسمگل شدہ زہر سیلفولائل شامل تھا، جوکہ فصلوں میں استعمال ہوتا ہے۔

چائنہ کا یہ زہر پاکستان میں غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق یہ آہستہ آہستہ انسانی جسم کو متاثر کرتا ہے اور ایک ماہ تک بھی اس کا اثر قائم رہتا ہے جس کا کوئی تریاق ممکن نہیں۔ واضح رہے مٹھائی کھانے والوں کی تعداد 50 سے زائدہے، اور 30 کے قریب متاثرین اب بھی زیر علاج ہیں، جن کے فوری بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات ملی ہیں کہ پولیس حراست میں مٹھائی فروشوں نے بھی اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ان کے ملازمین نے مٹھائی بناتے وقت غلطی سے کیمکل کی پڑیا مٹھائی تیاری کے اجزا سمجھ کر اس میں ملادی تھی، لیکن دکان مالک نے علم ہونے کے باوجود مٹھائی ضایع کرنے کے بجائے فروخت کردی جس کے باعث اتنا بڑا نقصان ہوا۔ دکان دار کے لالچ کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

پاکستان میں کہیں بھی معیاری اور صحت بخش کھانوں کی مناسب چیکنگ کا نظام نہیں۔ فوڈ ڈپارٹمنٹ تو موجود ہے لیکن اس کی کارکردگی صفر ہے۔ چھوٹے شہروں 'قصبوںاور د یہات جابجا قائم ریسٹورنٹ، ہوٹل اور سوئٹ شاپس صحت کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی میں مصروف ہیں۔بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنزکے اندر اور باہر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء، بین الاضلاعی شاہراہوں پر قائم ہوٹلز ،گنے کے رس بیلنے اور جوس فروش صفائی کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی کھانے کا کوئی معیار ہوتا ۔ ہیلتھ اینڈ فوڈ ڈپارٹمنٹ کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مذکورہ قسم کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔