ٹیم میں باصلاحیت پیسرز کی کمی وقار یونس کو کھٹکنے لگی

عرفان تھکاوٹ کا شکار نظر آتے ہیں، سلیکٹرز کو نئے پیسرز تلاش کرنا ہونگے، سابق کوچ


Sports Reporter April 29, 2016
پاکستان کپ میں مصباح، یونس وشعیب کوکپتان بناکرمستقبل کی تیاری نہیں ہو سکتی فوٹو؛ فائل

پاکستان میں باصلاحیت پیسرز کی کمی وقار یونس کو کھٹکنے لگی، سابق کپتان کا کہنا ہے کہ سسٹم میں خرابی کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ نہیں مل رہا، 5 سال میں محمد عامر کا متبادل نہیں دریافت ہو سکا، سینئرز ذرا سی زیادہ مشقت کرنے پر پریشان ہوجاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق ہیڈ کوچ وقار یونس خود بھی ماضی کے شہرہ آفاق فاسٹ بولر تھے لیکن وہ پاکستان کی کمزور پیس بیٹری میں جان ڈالنے میں ناکام رہے، ''ایکسپریس ٹریبیون'' کو انٹرویو میں انھوں نے اس کی وجوہات بتائی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سسٹم میں بڑی سنجیدہ نوعیت کی خرابی ہے جس کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ نہیں مل رہا، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ 5 سال میں محمد عامر کا متبادل نہیں تلاش کیا جا سکا، واپسی کے بعد بھی وہی پاکستان کے بہترین بولر کے روپ میں سامنے آئے۔

ورلڈ ٹوئنٹی20میں ناقص کارکردگی پیش کرنے والے محمد عرفان کو اصرار کرکے ٹیم میں شامل کرنے کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ ان کے ساتھ وہاب ریاض کی پرفارمنس میں بھی تسلسل نہیں، دونوں کو درست لینتھ پر گیندیں کرنے میں دشواری رہی، طویل قامت پیسر تھکاوٹ کا شکار نظر آنے لگے ہیں، سلیکٹرز کو نئے پیسرز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال پر وقار یونس نے کہا کہ غیر روایتی اسٹروکس کی بدولت تیزی سے رنز بنانے کیلیے فٹنس بہترین ہونی چاہیے لیکن ہمارے سینئر کھلاڑی بھی ذرا سی زیادہ مشقت کرنے پر پریشان ہوجاتے ہیں، ورلڈ کپ سے قبل تربیتی کیمپ میں زیادہ پسینہ بہانے پر ہی کتنا شور مچ گیا تھا۔

وقار یونس نے کہا کہ میں نے ہی دورہ انگلینڈ کی تیاری کیلیے 2 ماہ ٹریننگ اور ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ کی جاندار پچز پر پریکٹس کی تجویز دی تھی، بھرپور تیاری کی گئی تو امید ہے کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے گی۔ انھوں نے پاکستان کپ میں نوجوانوں کو مواقع دینے کے بجائے مصباح الحق، یونس خان اور شعیب ملک جیسے سینئرز کو قیادت سونپنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس انداز میں مستقبل کی تیاری کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔