ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ

مذکورہ تناظر میں راست ہو گا کہ پارلیمنٹ ملک میں غربت اور ملازمت پیشہ افراد و کروڑوں عوام کی بدحالی کو بھی پیش نظر رکھے


Editorial May 01, 2016
ارکان پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی اپنی تنخواہوں تو بڑھاوا لیتی ہے لیکن جب پارلیمنٹرینز کی باری آتی ہے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قواعد و ضوابط و استحقاق کی ذیلی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اراکین اسمبلی کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں، ان میں خاطرخواہ اضافہ کیا جائے۔ شنید ہے کہ وزراء اور عام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں کے درمیان لاکھوں کا فرق موجود ہے۔ پارلیمنٹرینز کو مراعات دیے جانے کے حوالے سے بہت انگلیاں اٹھتی ہیں مگر ان مراعات کا دیگر اداروں کے افسران کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ بہت کم لگیں گی۔

بلوچستان اسمبلی کے وزراء اور ارکان کو دی جانے والی تنخواہ اور مراعات میں وزیراعلیٰ کو 6 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ، اسپیکر کو 6 لاکھ 85 ہزار، اپوزیشن لیڈر کو 6 لاکھ 40 ہزار، وزراء کو 6 لاکھ 30 ہزار اور ارکان اسمبلی کو 4 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں دیے جا رہے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں رکن پارلیمنٹ کو ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں 79 ہزار 534 روپے دیے جاتے ہیں۔ دیگر صوبوں میں وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو دی جانے والی تنخواہوں میں بھی واضح فرق موجود ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو خط لکھا تھا جس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی درخواست کی گئی تھی تاہم تاحال کوئی واضح جواب نہیں آیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی اپنی تنخواہوں تو بڑھاوا لیتی ہے لیکن جب پارلیمنٹرینز کی باری آتی ہے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

مذکورہ تناظر میں راست ہو گا کہ پارلیمنٹ ملک میں غربت اور ملازمت پیشہ افراد و کروڑوں عوام کی بدحالی کو بھی پیش نظر رکھے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مضمرات سے ہر طبقہ ہی متاثر ہو رہا ہے۔ راست ہو گا کہ طبقاتی فرق کے باعث پھیلنے والے احساس محرومی کا ازالہ کیا جائے۔ صرف اپنی تنخواہوں میں اضافے پر ہی زور نہ دیا جائے۔