جنوبی پنجاب صوبہ اور پارلیمنٹ

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے وہی کچھ ہونا چاہیے جس کی آئین اجازت دیتا ہے ۔


Editorial November 17, 2012
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے کچھ تحفظات تھے جنھیں صدر نے خوش اسلوبی سے دور کر دیا ۔ فوٹو : ثنا

صدر مملکت آصف علی زرداری جمعے کو پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ملتان پہنچے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔

اس موقعے پر صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے ایوان میں ہمارے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے اور (ن) لیگ بھی روڑے اٹکا رہی ہے۔ سرائیکی بینک کے قیام کے سلسلے میں انھوں نے ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں صنعتکاروں سے ملاقات کی ہے لہٰذا اس بینک کا جلد قیام عمل میں لایا جائے گا، زرعی ٹیوب ویلوں کے حوالے سے بھی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے اور کاشتکاروں کے قرضے معاف کرنے کے معاملہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس موقعے پر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیشن کی سفارشات کو اسمبلی میں لایا جائے' دو تہائی اکثریت ہم خود پیدا کر لیں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی ختم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے اور اس حکمت عملی کو وقت آنے پر بتائیں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ ملتان انتخابی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے کچھ تحفظات تھے جنھیں صدر نے ملاقات کے دوران خوش اسلوبی سے دور کر دیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو صدر مملکت نے جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی کو متحد کر دیا ہے تا کہ وہ خوش اسلوبی سے آیندہ انتخابات کی تیاریاں کر سکے۔ اس کا ثبوت ان کی اس بات سے بھی ملتا ہے جو انھوں نے پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم شہاب الدین سے کہی کہ وہ پارٹی کو فعال بنائیں اور کارکنوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا تعلق ہے' اس بارے میں صدر مملکت کا بیان حقیقت پسندی پر مبنی ہے' ظاہر ہے کہ آئین کے تقاضے پورے کر کے ہی کوئی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔

محض نعرے بازی یا سیاسی ایشو بنانے سے معاملات خراب ہوسکتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ حساس معاملات میں حقیقت بیانی سے کام لیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ اصل حقائق کیا ہیں۔سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کا یہ کہنا کہ حکومت جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیشن کی سفارشات کو اسمبلی میں لا ئے' دو تہائی اکثریت ہم خود پیدا کر لیںگے' ان کے اعتماد کو ظاہر کرتاہے' اگر بقول یوسف رضا گیلانی انھیں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل ہو سکتی ہے تو سفارشات کو اسمبلی میں پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس سے حقیقت سامنے آجائے گی، بہرحال صدر آصف علی زرداری کے پیش نظر بھی کچھ حقائق ہوں گے، شاید انھیں حقائق کی وجہ سے انھوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی بات کی ہے۔

بہرحال جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے وہی کچھ ہونا چاہیے جس کی آئین اجازت دیتا ہے۔ملک پہلے ہی قومیتوں اور لسانی ایشو میںالجھا ہوا ہے، محض ووٹ لینے کے لیے کوئی ایسا ایشو پیدا کرنا، جس سے مسائل پیدا ہوں ، درست طرزعمل نہیں ہے جہاں تک سرائیکی بینک کے قیام کا تعلق ہے یہ ایک درست اقدام ہے۔ ملک میں پنجاب' سندھ اور خیبر کے نام پر بینک قائم کریں۔ یوسف گیلانی کی نا اہلی کے خاتمے کے حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے یا کی جائے گی' اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر آئین و قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے تو اسے ضرور بروئے کار لایا جانا چاہیے۔

ان تمام باتوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو حکومت کو بہت سے چلینجوں کا سامنا ہے۔ ان میں دہشت گردی کا ایشو سب سے زیادہ اہم ہے۔ اب چونکہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ شروع ہو چکا ہے اور اس ماہ میں دہشت گردی کا خطرہ بھی ہے' اس لیے حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں موٹرسائیکل اور موبائل فون پر پابندی کے حوالے سے صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ اس حوالے سے اگلے روز سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے یکم محرم الحرام کو کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل چلانے پر حکومتی پابندی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکلوں کے ذریعے دہشتگردی کی اطلاع تھی، پابندی تمام فریقین، صوبائی حکومت کی مشاورت اور وزیر اعظم کی منظوری سے لگائی، کابینہ سے منظوری کا انتظار کرتے تو دہشت گرد اس وقت تک اپنا کام کر جاتے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے فوری قانون سازی کرے۔

انھوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ تین سال سے دہشت گردی بل منظور نہ ہو سکا۔موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کا فیصلے کو درست قرار دینا مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی نے بھی اسے نہیں سراہا۔ بلاشبہ ملک کو دہشت گردوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، ان کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے۔وزیر داخلہ کا یہ مطالبہ درست ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمنٹ قانون سازی کرے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کے الزام یا شبے میں جو افرادگرفتار ہوئے ہیں انھیں سزائیں نہیں مل سکیں۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکا' ہر ادارے کا اپنا اپنا مؤقف ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردوں کو سزا دلوانے کے لیے مناسب قوانین موجود ہیں؟ پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو اس حوالے سے پوری توجہ' انہماک اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون سازی کرنی چاہیے۔

سوات میں پارلیمنٹ نے آپریشن کی منظوری دی تھی لیکن اس سے پہلے ہی پارلیمنٹ صوفی محمد کے مطالبات کو بھی منظور کرچکی تھی۔ اس قسم کا مبہم طرز عمل ارکان پارلیمنٹ کے شایان شان نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ ایسی ہنگامی صورت حال میں غیر معمولی فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ قوانین کے حوالے سے بھی ایسا ہی طریقہ کار ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کراچی اور کوئٹہ میں محرم الحرام کو جو اقدام کیے' ان پر تنقید کی گنجائش موجود ہے تاہم ان کی یہ بات درست ہے کہ پارلیمنٹ دہشت گردی کے خلاف قوانین بنائے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں کریک ڈاؤن کیا جا سکے۔