اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم

اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں شہید و زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔


Editorial November 17, 2012
امریکا کے اسرائیل نواز رویے نے ہی مسلم ممالک میں سیاسی افراتفری اور دہشت گردی کے بیج بوئے ہیں۔ ۔فوٹو: اے ایف پی

مصری صدرمحمد مرسی نے غزہ کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان سے مدد طلب کر لی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت سے تشدد کی لہر پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ مصری صدر محمد مرسی نے جمعے کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو ٹیلی فون کر کے غزہ میں اسرائیلی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کی اور پاکستان سے سلامتی کونسل میں مدد بھی طلب کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سلامتی کونسل میں فلسطین کا مسئلہ اٹھایا جائے تو پاکستان اس کی حمایت کرے۔ وزیر اعظم پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت سے تشدد کی لہر پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔واضح رہے کہ معروف امریکی دانشور نوم چومسکی نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ کو: ''دنیا کی سب سے بڑی اوپن ائر جیل'' قرار دیا ہے۔ جب کہ غزہ کی اس پٹی پر اسرائیلی گولا باری اور بمباری گزشتہ کئی روز سے تسلسل سے جاری ہے جن کا بعض اہم فلسطینی لیڈر بھی نشانہ بن چکے ہیں۔ مجبور، مقہور اور محصور فلسطینی جب اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں تو ان پر ہوائی حملے شروع کر دیے جاتے ہیں کیونکہ کہ ان بے چاروں کے پاس اسرائیلی طیاروں سے ڈاگ فائٹ کے لیے کوئی ایف سکسٹین یا تھنڈر سیونٹین جیسا لڑاکا طیارہ تک نہیں اور نہ ہی کوئی مالدار برادر اسلامی ملک انھیں دفاعی ساز و سامان دینے کا حوصلہ رکھتا ہے، ہاں زبانی جمع خرچ میں فلسطینی ضرور ہمارے بھائی ہیں، جیسے کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں۔

گزشتہ تین روز سے جاری رہنے والے اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں شہید و زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ جوابی حملوں میں 4 اسرائیلی بھی ہلاک ہو ئے۔ فلسطینیوں کی طرف سے یہ حملے ظاہر ہے کہ گھریلو ساخت کے ناقص اسلحے سے کیے گئے۔ اسرائیلی حملے کے بعد عرب لیگ نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جب کہ عرب لیگ کا اپنا اجلاس ہفتے کو ہو گا۔ امریکی صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم اور مصری صدر کو ٹیلی فون کر کے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ادھر پاکستان سمیت عالمی برادری کے بعض دیگر ممالک نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ فوج غزہ پر بھرپور حملے کے لیے مکمل تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزہ سے اسرائیلی سر زمین پر راکٹ مسلسل داغے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کے 30 ہزار ریزرو فوجیوں کو واپس بلانے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری جانب حماس نے اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دیگر مزاحمتی گروپوں سے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی شہادت کے بعد مصر نے اسرائیل سے سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ صہیونی فوج نے غزہ کے دیگر علاقوں میں بھی شہری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ادھر امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب مسعود خان نے مطالبہ کیا کہ امریکا اسرائیلی حملے فوری بند کرائے۔ مصر کے علاوہ ایران نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور فرانس نے اسے قیام امن کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو بڑی طاقتوں کے کھیل میں فلسطینی عوام مارے جارہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا بے چینی اور انتشار کا شکار ہے۔امریکا اور مغربی یورپ کے اسرائیل نواز رویے نے ہی مسلم ممالک میں سیاسی افراتفری اور دہشت گردی کے بیج بوئے ہیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان مصر کا بھرپور ساتھ دے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کو روکا جاسکے۔