پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ

اپریل میں درآمدات کا بل 2.3 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔


Editorial May 12, 2016
اپریل میں درآمدات کا بل 2.3 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ فوٹو؛ فائل

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے تجارتی خسارے میں سالانہ 20 فیصد اضافے کے بعد اپریل کے مہینے میں یہ خسارہ 2.15 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے جب کہ برآمدات میں مسلسل کمی کے بعد درآمدات میں قدرے اضافے کی اطلاع دی گئی ہے۔ پاکستان کے بیورو آف اسٹیٹس ٹکس (پی بی ایس) نے گزشتہ روز جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں (جولائی سے اپریل تک) میں تجارتی خسارے میں 7 فیصد اضافے کے بعد یہ خسارہ 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جب کہ گزشتہ مالی سال میں یہ خسارہ 17.8 ارب ڈالر تھا۔ سرکاری ذرایع کے مطابق اس خسارے میں اضافے کی وجہ غیر ضروری اشیاء کی درآمدات میں اضافہ ہے جن میں زیادہ تر فولاد اور اسٹیل کی مصنوعات شامل ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر مشینری منگوائی گئی۔ اپریل میں درآمدات کا بل 2.3 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ مشینری کی درآمد سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس مشینری کو ویلیو ایڈڈ برامدات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ان کی مصنوعات کی برآمدات کے اضافے میں مضمر ہے جب کہ ہماری مصنوعات بالعموم توانائی کے بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں مسابقت کا سامنا نہیں کر سکتیں کیونکہ توانائی کے زیادہ اخراجات کی وجہ سے مصنوعات کی لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے جن کو عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے لیے پیش ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے نتیجے میں ہماری برآمدات صرف خام مال تک محیط رہتی ہیں جن کو اگر ویلیو ایڈڈ صورت میں برآمد کیا جائے تب ہی وہ زیادہ منافع حاصل کر سکتی ہیں۔

ہماری برآمدات میں کپاس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جس قیمت پر ہماری ایک من کپاس برآمد ہوتی ہے اس سے زیادہ قیمت کپاس کی صرف ایک کلو برآمد کو حاصل ہو سکتی ہے بشرطیکہ کہ کپاس کو اعلیٰ معیار کے کپڑے کی شکل میں برآمد کیا جائے لیکن اس کے لیے قیمتی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اندرون ملک تیار نہیں ہوتی بلکہ بھاری قیمت ادا کر کے درآمد کرنی پڑتی ہے یہی ہمارے تجارتی خسارے کی بنیادی وجہ ہے۔