سندھ کی 22 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کی نذر

دنیا میں میٹھے پانی کی قلت کا جو مسئلہ درپیش ہے اس کے تناظر میں ہمیں اپنے موجودہ ذخائر کی سنجیدگی سے حفاظت کرنی چاہیے


Editorial May 17, 2016
ملک کی معیشت کو استحکام بخشنے والے صوبے کی ضروریات سے چشم پوشی کسی طور راست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ کی 22لاکھ ایکڑ زمین سمندر نے ہڑپ کرلی ہے، نیز بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ کے مطابق کوٹری ڈاؤن اسٹریم تک پانی کی شدید قلت کی وجہ سے سمندر زمین پر تیزی سے تجاوز کرتے ہوئے میٹھے پانی کے ذرایع ہڑپ کررہا ہے اور ٹھٹھہ، سجاول کے پورے علاقے میں میٹھے پانی کو بھی کھارے میں تبدیل کرتا جارہا ہے۔ اگر میٹھے پانی کے ذخائر کی قلت کا اندازہ کیا جائے تو یہ بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔

دنیا میں میٹھے پانی کی قلت کا جو مسئلہ درپیش ہے اس کے تناظر میں ہمیں اپنے موجودہ ذخائر کی سنجیدگی سے حفاظت کرنی چاہیے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ کسی بھی دور حکومت میں اس جانب توجہ مرکوز نہیں کی گئی، حالانکہ 1991 کے پانی معاہدے میں کوٹری ڈاؤن اسٹریم تک 10 ایم اے ایف پانی چھوڑنے کا مطالبہ شامل ہے، لیکن وفاق نے اس معاملے پر ہمیشہ پہلوتہی برتی جس کے نتیجے میں مذکورہ مسائل سامنے آرہے ہیں۔جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی طرف سے سمندری انٹریوژن کے حوالے سے جو 50 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں بھی سمندری انٹریوژن کو روکنے کے لیے کم از کم 10 ایم اے ایف پانی کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

وفاق کو صوبہ سندھ کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس مسئلے کی جانب فوری توجہ مرکوز کرنا ہوگی، ملک کی معیشت کو استحکام بخشنے والے صوبے کی ضروریات سے چشم پوشی کسی طور راست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کی یہ تجویز بھی قابل عمل ہے کہ ٹھٹھہ کے سرکریک کے علاقے سے کراچی تک کوسٹل ہائی وے کی تعمیر شروع کی جائے تاکہ سمندری تجاوزات کو روکا جاسکے۔ مناسب ہوگا کہ اس معاملے پر مشترکہ مفاداتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے کیونکہ یہ ایک بہت ہی سنگین معاملہ ہے ، اور اس کو ٹھٹھہ اور سجاول ضلع کے غریب عوام کے وسیع تر مفادات میں فوری طور پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔