پی ایس ایل فرنچائز ڈٹ گئیں چھٹی ٹیم کیلیے’’ نو انٹری‘‘ کا بورڈ نہ ہٹ سکا

مالکان کو منانے کی کوششیں ناکام، مالی منصوبہ بندی کی جھلک بھی قائل نہ کرسکی


Sports Reporter May 18, 2016
مالکان کو منانے کی کوششیں ناکام، مالی منصوبہ بندی کی جھلک بھی قائل نہ کرسکی۔ فوٹو: فائل

NEW YORK,: پی ایس ایل فرنچائزز ڈٹ گئیں، آئندہ ایڈیشن میں چھٹی ٹیم کیلیے ''نو انٹری'' کا بورڈ نہ ہٹ سکا، منتظمین کی جانب سے مالکان کو منانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے رواں سال فروری میں ہونے والے اولین ایونٹ میں 5ٹیموں اسلام آباد یونائیٹڈ،کراچی کنگز، لاہور قلندرز، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے شرکت کی، فرنچائزز سے معاہدے میں طے پایا تھا کہ کسی ٹیم کا اضافہ 2018کے ایڈیشن سے پہلے نہیں کیا جائے گا، بعد ازاں گورننگ کونسل کے سربراہ نجم سیٹھی نے کشمیر کے نام سے چھٹی سائیڈ شامل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا بعد میں ارادہ ترک کرکے گلگت بلتستان یا کسی شہر سے منسوب فرنچائز بنانے کی بات سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی نے معاملہ حل کرنے کیلیے منگل کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں فرنچائز مالکان سے ملاقات کی۔

ان کے رفقاء نے مالی منصوبہ بندی کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے چھٹی ٹیم کی شمولیت کیلیے راہ ہموار کرنا چاہی، مگر فرنچائز مالکان نے اجتماعی طور پر اس پلان کی مخالفت جاری رکھتے ہوئے لچک دکھانے سے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا کہ اولین ایونٹ ہونے کی وجہ سے پرستاروں کی تعداد اور اپنی مقبولیت کا گراف بڑھانے کیلیے کوشاں ہیں،سرمایہ کاری کی رقم واپس حاصل کرنے کیلیے مزید وقت کی ضرورت ہے، نئی ٹیم کی شمولیت مفادات پر ضرب لگانے کے مترادف ہوگی، فرنچائز مالکان کی مخالفت کے بعد فیصلہ کیا گیاکہ آئندہ سال فروری میں شیڈول پی ایس ایل کا اگلا ایڈیشن 5ٹیموں پر مشتمل ہوگا۔

دوسری جانب پی سی بی علاقائی کرکٹ میں وسائل کی کمی دور کرنے کیلیے اس بات کا خواہاں تھا کہ فرنچائزز ریجنل ٹیموں کی سرپرستی قبول کرتے ہوئے کھیل کے فروغ میں مزید کردار ادا کریں،اس ضمن میں اسپانسر کرنے والی فرنچائز کو ریجنز میں بھی لاہور قلندر اور پشاور زلمی سمیت اپنے ٹائٹل استعمال کرنے کی پیشکش بھی دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجود فرنچائز مالکان اس پر بھی قائل نہیں ہوئے،ان میں اتفاق تھا کہ سب سے پہلے پی ایس ایل کو ایک کامیاب اور منافع بخش پراڈکٹ بنانے پرتوجہ دینا چاہتے ہیں، انھوں نے لیگ کو چلانے کیلیے بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا جس کو پی سی بی نے قابل عمل قرار نہیں دیا، معاملات سنبھالنے کیلیے نجی کمپنی بنانے کی سابق تجویز پر پیش رفت ہوگی۔ این سی اے میں ہونے والی میٹنگ میں پلیئرز ڈرافٹ اور آئندہ ایونٹ کیلیے ممکنہ کھلاڑیوں کے پلان پر بات ہوئی، اس ضمن میں حتمی فیصلے مزید مشاورت کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ملاقاتوں کا سلسلہ مزید ایک دور روز تک جاری رہے گا۔