عامرکا برطانوی ویزا پی سی بی کو امید کی کرن نظر آنے لگی

تکنیکی طور ڈیپورٹ نہیں ہوئے، اعتراف جرم کیا، نرمی برتے جانے کا امکان ہے، وکیل پی سی بی


Sports Reporter May 18, 2016
انگلش بورڈ معاونت کر رہا ہے،سلمان2020تک ویزے کیلیے درخواست نہیں دے سکتے فوٹو : فائل

SUVA: پی سی بی کو محمد عامر کے ویزے کیلیے امید کی کرن نظر آنے لگی،انگلش کرکٹ بورڈ کی معاونت سے بیل منڈھے چڑھنے کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے محمد عامر کیلیے انگلینڈ کا ویزا حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے،اس کے باوجود پی سی بی پُرامید ہے کہ کوشش کا مثبت نتیجہ برآمد ہوگا۔ قانونی مشیر تفضل رضوی نے غیرملکی نیوز ایجنسی سے بات چیت میں کہاکہ پیسر کا معاملہ دیگر عام لوگوں سے مختلف ہے، سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص مدت تک ان کے ویزے کیلیے درخواست نہیں دی جاسکتی لیکن استثنیٰ دلایا جاسکتا ہے، پیسر کا کیس سلمان بٹ اور محمد آصف سے بھی مختلف ہے، دیگر دونوں کے برعکس عامر کو تکنیکی طور ڈیپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔

عامر نے سب سے پہلے اعتراف جرم کیا، انگلش کرکٹ بورڈ بھی کیس کی تیاری میں ہماری مدد کررہا ہے، سلمان بٹ تو 2020تک ویزے کیلیے درخواست نہیں دے سکتے تاہم پیسر سے نرمی برتے جانے کا امکان موجود ہے، امید ہے کی دیگر کھلاڑیوں سے الگ تیار کیے جانے والے عامر کے کیس میں مثبت پیش رفت ہوگی،اسی نوعیت کی تیاری پیسر کیلیے نیوزی لینڈ کا ویزا حاصل کرنے کیلیے کی گئی تھی،اس میں این زیڈ سی کا اہم کردار تھا،اس بار یہی کام ای سی بی کو کرنا ہے، پی سی بی ذرائع نے بتایا کہ انگلش بورڈ کی طرف سے تحریری پیش رفت کا انتظار کیا جارہا ہے، لیٹر ملتے ہی ویزے کی درخواست جمع کرا دی جائے گی۔