دفاعی صلاحیت کا حصول پاکستان کا حق ہے

امریکا کو اپنی دہری پالیسیوں سے اجتناب برتتے ہوئے بھارت کے جنگی جنون کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔


Editorial May 19, 2016
وقت آگیا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کے جنگی جنون کو روکنے اور پڑوسی ممالک سے مخاصمت سے باز رکھنے کے لیے میدان عمل میں آئیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے یورینیم و پلوٹینیم کی افزودگی بند کرنے، تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر دستخط اور ایٹمی پروگرام منجمد کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔

امریکا کی دہری پالیسی ہمیشہ سے عیاں رہی ہے، جہاں ایک جانب وہ بھارت کی شرانگیزیوں اور ہتھیاروں کے جنون کو مستقل نظر انداز کرتے ہوئے اس کی حمایت پر عمل پیرا ہے دوسری جانب پاکستان کے تمام تر خلوص اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرنے، یورینیم و پلوٹینیم کی افزودگی بند کرتے ہوئے تخیف اسلحہ کے معاہدے کے لیے بات چیت شروع کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

جب کہ بھارت کی جانب سے حالیہ دنوں ہی ایک اور میزائل تجربہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ کسی صورت مناسب نہیں کہ پاکستان اپنے دفاع کی جانب سے ذرہ برابر بھی غفلت برتے۔ ایوان بالا کے اجلاس میں بھی چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سپرسونک میزائل کا تجربہ پاکستان کے لیے قابل تشویش ہے، یہ معاملہ پاکستان کی سلامتی کا ہے۔ دفتر خارجہ نے اپنے اعلامیے میں بالکل صائب کہا ہے کہ پاکستان قومی مفاد اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے کم سے کم دفاعی صلاحیت ہر صورت برقرار رکھے گا۔ امریکا کو اپنی دہری پالیسیوں سے اجتناب برتتے ہوئے بھارت کے جنگی جنون کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

ایک شر انگیز پڑوسی کی موجودگی میں اپنی بقا کے لیے دفاعی صلاحیتوں کا حصول پاکستان کا حق ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا استحکام چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاک امریکا سیکیورٹی، سٹرٹیجک استحکام اور عدم پھیلاؤ ورکنگ گروپ کے آٹھویں مرحلے کے اجلاس کے دوران امریکا نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور دیگر کثیرالجہتی ایکسپورٹ کنٹرول رجیم کے ساتھ اسٹرٹیجک ٹریڈ کنٹرول ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی نمایاں کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔

جب کہ اوباما انتظامیہ نے بھی زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے کے اقدام کی مخالفت کردی ہے۔ لیکن دوسری جانب بھارت اپنی شرانگیزیوں میں مصروف ہے اور جیوسپاشیئل انفارمیشن ریگولیشن بل کے ذریعے پھر پاکستان کو چھیڑنے میں مصروف ہے جس میں کشمیر کے متنازع علاقے کو نقشے میں بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ پاکستان نے مذکورہ معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کے جنگی جنون کو روکنے اور پڑوسی ممالک سے مخاصمت سے باز رکھنے کے لیے میدان عمل میں آئیں۔