گرمی اور لوڈ شیڈنگ جینا عذاب ہوگیا

موجودہ حکومت لوڈشیڈنگ چھ ماہ میں خاتمےکےدعوؤں پر ووٹ لےکرمنتخب ہوئی، تین برس گزرگئےعوام کی مشکلات میں کمی نہ ہوئی


Editorial May 19, 2016
جمہورکا جینا دوبھر نہ کیجیے ورنہ عوامی احتجاج میں سب خاک وخش کی طرح بہہ جائے گا۔ فوٹو : محمد نعمان / ایکسپریس

سورج سوا نیزے پرکیا آیا، ہر ذی نفس کے لیے جینا محال ہوگیا، گلی، محلے، سڑکیں ویران تو ہوئیں مگر غیرعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ نے مرے پر سو درے کے مصداق عوام کا بھرکس نکال دیا ،اندازہ کیجیے جب ملک بھر کے کئی شہروں کا درجہ حرارت40 سے 50 ڈگری کے درمیان یا اس سے بھی زیادہ ہو، اور بجلی نہ ہو تو شدید گرمی اورلو لگنے سے انسان جان سے نہیں جائے گا تواور کیا ہوگا؟

لاہور میں دن بھر لوچلتی رہی تو ٹنڈوالہ یار میں گرمی کا 40 سالہ ریکارڈ ٹوٹا، موہنجوداڑو اور نواب شاہ میں لو لگنے سے متعدد افراد بے ہوش ہوئے تومظفر آباد سمیت آزاد کشمیر بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، سیہون میں ایک شخص جاں بحق،لاہور سمیت مختلف شہروںمیں درجنوں افراد بیہوش ہوگئے ،کراچی میں نیٹی جیٹی پل پر اور دیگر علاقوں میں زبردست احتجاج ہوا، گھنٹوں ٹریفک جام رہا ، ایک قیامت سی قیامت تھی جو گزشتہ روز بیتی، لیکن یہ قیامت گزری تو نہیں ، ابھی تو باقی ہیں قیامت کے رات دن۔ موجودہ حکومت لوڈشیڈنگ چھ ماہ میں خاتمے کے دعوؤں پر ووٹ لے کر منتخب ہوئی، تین برس گزرگئے ، عوام کی مشکلات میں کمی نہ ہوئی ، اب وعدے سن دوہزار اٹھارہ کے کیے جا رہے ہیں۔

وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے، بجلی کی طویل بندش کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ، کسی نے لاڑکانہ ، موہنجوداڑو، جیکب آباد، سبی، سکھر، رحیم یار خان،نواب شاہ ، حیدرآباد، تربت،کوٹ ادو، رحیم یار خان ، نور پورتھل، ملتان،ٹنڈوالہ یار، بہاولپور، ڈی جی خان ، لاہور، لیہ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ،اسلام آباد اورکراچی کے باسیوں کا حال نہ پوچھا، کراچی میں عوامی احتجاج کے باعث ٹاور (نیٹی جیٹی ) کا علاقہ چار گھنٹے بند رہا۔سب پانامہ لیکس پر لڑتے رہے۔

اسمبلی میں کل بھی لوڈشیڈنگ پر کسی بھی منتخب نمایندے نے زبان نہ کھولی۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے اورنجی بجلی کمپنیوں سے باز پرس کرنی چاہیے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کے لیے تو بلاتعطل ملک بھرمیں بجلی فراہم کی جاسکتی ہے لیکن گرمی آتے ہی شارٹ فال بڑھ جاتا ہے، جمہورکا جینا دوبھر نہ کیجیے ورنہ عوامی احتجاج میں سب خاک وخش کی طرح بہہ جائے گا۔