پانامہ لیکس… پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اتفاق

حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مشترکہ ٹرمز آف ریفرنس تشکیل دینے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔


Editorial May 20, 2016
حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مشترکہ ٹرمز آف ریفرنس تشکیل دینے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔ فوٹو؛ فائل

حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس پر مشترکہ ٹرمز آف ریفرنس تشکیل دینے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی دو ہفتوں میں ٹرمز آف ریفرنس اور اپنی سفارشات مرتب کرنے کے بعد رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی' حکومت اور اپوزیشن میں کمیٹی کی صدارت کا فیصلہ نہ ہونے کے باعث طے پایا کہ کمیٹی کا سربراہ کوئی نہیں ہو گا۔

خوش آیند بات ہے کہ حکومت اور اپوزیشن پانامہ لیکس کے مسئلے کا حل سڑکوں پر طے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر تلاش کرنے پر متفق ہو گئی ہیں۔ پانامہ پیپرز کے منظرعام پر آنے کے بعد جس طرح اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سرگرم محاذ کھول دیا تھا اس سے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات طے نہ ہوئے تو یہ محاذ آرائی بڑھتے بڑھتے کسی بڑے سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ حکومت نے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے فلور پر اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کرکے درست راستہ اختیار کیا۔

بدھ کو حکومت اور اپوزیشن جماعتیں 12رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر رضامند ہو گئیں مگر جمعرات کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مسئلے پر اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب حکومت نے یہ کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے آٹھ آٹھ ارکان شامل ہوں گے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز حکومت اور اپوزیشن کے اجلاس میں طے پایا تھا کہ کمیٹی میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 6,6 ہو گی لیکن بعد میں اس میں اضافہ کر دیا گیا جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں فاروق ستار نے ٹیلی فون پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیٹی میں ایم کیو ایم کو نمایندگی نہیں دی گئی۔

ان کا موقف مناسب تھا لیکن اس کے باوجود اگر اپوزیشن چاہیے تو کمیٹی میں ارکان کی تعداد 12 کرنے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں۔ ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کی چوتھی بڑی جماعت ہے جسے نظر انداز کرنا کسی طور پر درست نہیں۔ بعدازاں ایوان نے کمیٹی کے ارکان کی تعداد 16کے بجائے 12 کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔

پارلیمانی کمیٹی پانامہ پیپرز' آف شور کمپنیوں پر ٹی او آرز بنائے گی'اس کے ساتھ ساتھ فنڈز کی منتقلی' کک بیکس' قرضوں کی معافی اور بیرون ملک قرضے معاف کرانے کے معاملات کی تحقیقات کے لیے فورم کا تعین بھی کرے گی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے لیے اپوزیشن نے چھ نام اسپیکر کو بھجوا دیے ہیں جن میں اعتزاز احسن' شاہ محمود قریشی' غلام احمد بلور' آفتاب شیر پاؤ' طارق اللہ اور طارق بشیر چیمہ شامل ہیں۔ خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ بھیجے جائیں گے' تحقیقات سپریم کورٹ کے ذریعے ہی کرانا ہو گی۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ بھی تحریک انصاف کے ساتھ سڑکوں پر جانے پر مجبور ہوں گے' انھوں نے بالکل درست موقف اختیار کیا کہ صرف وزیراعظم ہی نہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے' جن لوگوں نے آج تک قرضے معاف کروائے' ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ملکی ترقی کی راہ میں کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے' حیرت انگیز امر ہے کہ ہر سیاسی جماعت خواہ وہ اقتدار میں ہے یا اپوزیشن میں کرپشن کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کرنے سے گریز نہیں کرتیں اور ایک دوسرے کا احتساب چاہتی ہیں۔

اب قومی اسمبلی میں کرپشن کے خلاف تحقیقات کا مسئلہ اٹھا ہے تو یہ بالکل درست تجویز ہے کہ کرپشن کا مکمل خاتمہ تب ہی ممکن ہو گا جب تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں شریک ہیں یا اپوزیشن میں' کا بے لاگ احتساب کیا جائے' ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی ایک شخص یا گروہ کا احتساب تو کیا جائے اور کرپشن میں شریک باقی افراد کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ کرپشن کے خلاف تحقیقاتی عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں اگر اس مسئلے پر اختلافی امور کے باعث تاخیر ہوتی چلی گئی تو اس کا فائدہ کرپشن میں ملوث افراد ہی کو پہنچے گا اور جس مقصد کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے وہ اپنی اہمیت کھو دے گا۔ بہتر ہے کہ اختلافی امور کو سڑکوں پر حل کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے فورم پر اور جلد از جلد حل کیا جائے۔