الیکشن کمیشن بااختیار اور غیر متنازعہ ہونا چاہیے

قومی اسمبلی نےآئین میں 22 ویں ترمیم کا بل متفقہ طور پرمنظورکرلیاجس سےالیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی راہ ہموار ہو گئی ہے


Editorial May 21, 2016
ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے آئین میں 22 ویں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا جس سے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کے علاوہ اب کم سے کم 20 سالہ تجربہ کا حامل سرکاری افسر یا ٹیکنوکریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر مقرر ہو سکے گا، جب کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے صرف ہائیکورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

اصول کی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس زیادہ سے زیادہ اختیارات ہونے چاہئیں، نہ صرف عدالتی اختیارات بلکہ تمام تر انتظامی اختیارات بھی اس کمیشن کے پاس ہونے چاہئیں۔ اس کی مثال کے لیے ہمیں اپنے مشرقی پڑوسی ملک بھارت کی طرف دیکھنا ہو گا جہاں کا الیکشن کمیشن اس قدر مضبوط ہے کہ نئے انتخابات سے پہلے جب حکومت اپنی مدت کے اختتام پر معطل ہو جاتی ہے تو نگران حکومت کے دوران تمام تقرریاں اور تبادلے بھی اسی کمیشن کے تحت ہوتے ہیں حتی کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے اہم ترین عہدے کا تقرر بھی اگر نگران حکومت کے دور میں ہونا ہو تو الیکشن کمیشن کی اجازت سے ہوتا ہے۔

بھارتی الیکشن کمشنر کے بھرپور اختیارات کا ہی نتیجہ ہے کہ وہاں ہر انتخاب مکمل غیرجانبداری کے ساتھ تکمیل کو پہنچتا ہے اور کبھی کسی انتخاب میں دھاندلی یا جانبداری کا الزام نہیں لگتا اور انتقال اقتدار پر امن طور پر ہوتا ہے۔ ہمارے حکمران قصداً الیکشن کمیشن کو مکمل با اختیار بنانے سے گریز کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے' یہ لوگ اپنی ساکھ کے اعتبار سے غیر متنازعہ ہوں اور انھیں تمام اختیارات حاصل ہوں' تب ہی عام انتخابات پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کا اعتماد بحال ہو گا۔