گرمی اور لوڈ شیڈنگ کا دہرا عذاب

شہر قائد مضطرب ہے، پانی بجلی کی قلت اور تعطل پر کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے


Editorial May 21, 2016
حکمراں خوب غفلت سے بیدار ہوں ، اب دیر کی گنجائش نہیں۔ فوٹو؛ فائل

ملک بھر میں شدید گرمی نے ایسی قیامت ڈھا دی کہ میر انیس کا ''خود نہر علقمہ کے بھی سوکھے ہوئے تھے لب'' کا لازوال مصرع یاد آ گیا۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں گرمی کی شدت کی تاب نہ لا کر 14افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ درجنوں بے ہوش ہو گئے، حبس زدہ کمرہ امتحانات طلبہ و طالبات کے لیے خود امتحان بن گیا۔

بلوچستان و ملتان شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے، گرمی سے بچاؤ کے لیے اگرچہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں تاہم وہ ناکافی ثابت ہوئے، یہ گرمی موسمیاتی تبدیلیوں سے عبارت ہے، ماحول سے چھیڑچھاڑ نے عالمی موسمیاتی ہم آہنگی تباہ کی ہے اس کی تفہیم کی ضرورت ہے، عوام کی پیاس صرف ٹھنڈے پانی کے کولروں سے نہیں بجھے گی، لوگ گرمی کے باعث تپتی ہوئی تنور جیسی سڑکوں پر گرتے رہے اور بے ہوش ہوتے رہے تاہم شدید گرمی کے ستائے ہوئے عوام کو ملک گیر لوڈ شیڈنگ کے دہرے عذاب کا بھی سامنا ہے۔

سندھ میں بدترین لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، جمعرات اور جمعہ کی شب کراچی میں رات گئے بجلی کے بریک ڈاؤن سے شہری بلبلاتے رہے، جب کہ انتظامی سطح پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گرمی کی شدت کو حکمران طبقہ فطرت اور موسمی تبدیلی کا شاخسانہ سمجھتے ہوئے چپ ہے، وزیراعظم نے جب بھی لوڈشیڈنگ کا حوالہ دیا تو ان کے نزدیک 5 یا6گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، اور وہ بھی شاید لاہور ان کے ذہن پر چھایا رہتا ہے مگر اہل اقتدار اشرافیہ کو کیا پتا کہ غریب الوطن پاکستانی کسان، صنعتی مزدور، اور خلق خدا اس قیامت خیز موسمیاتی تبدیلی کے باعث کتنے دردناک دورانیے سے گزر رہی ہے، البتہ بلند بانگ حکومتی دعوے اب بھی یہی ہیں کہ 2018 ء میں لوڈشیڈنگ ختم ہو گی۔

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ ضرروت اس بات کی ہے کہ لوڈشیڈنگ کے تسلسل کو ریاستی و حکومتی ناکامی کے الزام سے بچائے، ڈھیر سارے پاور پلانٹس کی تنصیب اور بجلی کے نئے وسائل کے حصول کا شور تو مچتا رہتا ہے، مگر حکومت بجلی کی معطلی، چوری، شارٹ فال، پیداواری استعداد میں دانستہ کمی کا توانائی کے مجموعی بحران کے وسیع تر تناظر میں جائزہ لینے سے گریزاں ہے۔

اسے اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ گرمی میں کہیں جمہوریت کی برف ہی نہ پگھل جائے۔ عوام کو ریلیف دینے کی کہیں بھی حکومتی خواہش نظر نہیں آتی، اس کی توثیق سپریم کورٹ کے ریمارکس سے ہوتی ہے، سپریم کورٹ نے حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے منیجر کو طلب کرتے ہوئے وضاحت مانگی ہے کہ جب حفاظتی ٹیکے امداد میں ملتے ہیں تو یہ ضرورت مندوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتے اور بچے کیوں ہلاک ہوتے ہیں؟ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے نمونیہ اور ہیپاٹائٹس سے اموات کے از خود نوٹس کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جان لیوا امراض کے علاج کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات کی رپورٹ بھی مانگی اور آبزرویشن دی ہے کہ جب کھاد پر 20 ارب کی سبسڈی دی جا سکتی ہے تو لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مفت ادویات کیوں نہیں دی جا سکتیں؟ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن وسائل عوام پر خرچ کرنے کا جذبہ اور خواہش موجود نہیں۔

یہ محض ریمارکس نہیں حکومت و ریاست کو متحرک کرنے کا چشم کشا تازیانہ ہے، کسی وزیر نے اپنے ضمیر میں یہ خلش محسوس کی کہ تھرپارکر میں قحط کے سبب مزید4 بچے کیوں دم توڑ گئے، 6 نایاب ہرن کیسے ہلاک ہو گئے۔ جمعرات کو دوسرے روز سب سے زیادہ گرمی لاڑکانہ میں پڑی جہاں درجہ حرارت2 5 ڈگری پر پہنچ گیا، سبی میں51، نواب شاہ میں 49، موئن جو دڑو، سکھر، جیکب آباد، جعفر آباد48، تربت 47، بہاولپور اور ٹنڈوالہ یا ر میں 46، رحیم یار خان، میرپور خاص، نور پور تھل 45، حیدر آباد، لاہور، ملتان 44، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، دالبندین 43، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ 42 ، راولپنڈی 41، اسلام آباد، ٹھٹہ 39 جب کہ کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.5 سینٹی گریڈ رہا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے گرمی کا سلسلہ چند روز مزید جاری رہے گا، ادھر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے کامیاب مذاکرات کے بعد کسان اتحاد نے مال روڈ پرر دھرنا ختم کر دیا جب کہ گزشتہ روز کسانوں کے دھرنے کے دوران ایک کاشتکار ہارٹ اٹیک سے جاں بحق جب کہ دو خواتین گرمی سے بے ہوش ہو گئیں۔ صوبائی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

شہر قائد مضطرب ہے، پانی بجلی کی قلت اور تعطل پر کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، مختلف شہروں میں شدید گرمی کی وجہ سے گیسٹرو کا مرض بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ بچے ہلاک ہو رہے ہیں، بڑے شہروں اور کراچی میں کھلے مین ہولز موت کے کنویں بن چکے ہیں، ماؤں کے جگرپاروں کی لاشیں مل رہی ہیں، ملک بھر میں شہری و سماجی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی کے پیش نظر ہنگامی اقدام کیے جائیں۔ حکمراں خوب غفلت سے بیدار ہوں ، اب دیر کی گنجائش نہیں۔