رُشد و ہدایت کا عظیم مینارۂ نور

چودہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی واقعہ کربلا تاریخ انسانیت میں اسی طرح زندہ ہے جیسے یہ حال ہی کا واقعہ ہو


November 20, 2012
[email protected]

بیہقی شریف کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیّد الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور واقعہ کربلا سے بھی مطلع فرمادیا تھا۔

چنانچہ آج چودہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی واقعہ کربلا تاریخ انسانیت میں اسی طرح زندہ ہے جیسے یہ حال ہی کا واقعہ ہو۔ واقعۂ کربلا کو انسانیت کبھی بھلا نہیں سکتی، کربلا کی جنگ اصولی جنگ تھی، حق و باطل، سچ و جھوٹ کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ تھی، یہی وجہ ہے کہ آج تک اس واقعے نے اپنا اثر نہیں کھویا، معرکۂ کربلا کے اسباب اور سیدالشہداء امام مظلوم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے انقلاب آفرین نتائج کل بھی انسانی تاریخ و انسانی تہذیب و تمدن کا اثر انگیز اور جلی عنوان تھے اور آج بھی ہیں۔ جب کہ انسان کا ذہن اور قوتِ فکر فلک رسا بن گئی ہے، لیکن حیاتِ انسانی کی تاریخ کے اس روشن باب اور عظیم و جلیل واقعہ کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ امام عالی مقامؓ نے کربلا کے میدان میں اپنے احباب اور خاندان کے افراد کی جو گراں قدر قربانی پیش کی وہ عالم انسانیت میں رُشد و ہدایت اور رہنمائی کا ایک عظیم مینارۂ نور بن چکا ہے اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ امام مظلوم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔ آپؓ کی انھی قربانیوں کی بدولت آج پرچم اسلام سربلند ہے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت عبادت گزار تھے، آپؓ کے طرزِ زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا کردار نمایاں تھا اور آپؓ نے جو کچھ بھی کیا وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا۔ آپؓ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بادشاہوں کی بدترین صفات یہ ہیں کہ دشمنوں سے ڈریں، بے سہارا اور ناداروں پر رحم نہ کریں اور عطا و بخشش کے وقت بخل سے کام لیں۔ سید الشہداء امام مظلوم حسینؓ کی قدر و منزلت کا اندازہ لگانے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ احادیث کافی ہیں۔

٭ حسینؓ مجھ سے اور میں حسینؓ سے ہوں، خدا اسے دوست رکھے جو حسینؓ کو دوست رکھے۔

٭حسنؓ اور حسینؓ جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے پدر بزرگوار ان دونوں سے بہتر ہیں۔ (ابنِ ماجہ)

٭ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں دربارِ رسالتﷺ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسولﷺ نے حضرت حسینؓ کو اپنی پشت مبارک پر سوار کرایا ہے اور آپﷺ گھٹنوں کے بل تشریف لے جارہے ہیں، جب میں نے یہ شان دیکھی تو عرض کیا ''اے ابو عبداللہ! آپؓ نے سواری تو بڑی اچھی پائی ہے''۔ تو رسولﷺ نے فرمایا کہ ''اے عمرؓ! سوار بھی تو بہت اچھا ہے''۔

٭ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے ''بے شک حسنؓ اور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (مشکوٰۃ)

٭ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں حسنؓ سینے سے لے کر سر تک رسول اللہﷺ کے مشابہ اور حسینؓ سینے سے لے کر قدموں تک آپﷺ کے مشابہ تھے۔ (ترمذی)

٭ رسول اکرمﷺ حضرات حسین کریمینؓ سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے ان دونوں شہزادوں کے لیے یہ دعا فرمائی کہ ''اے اللہ عزوجل! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تُو بھی ان سے محبت فرما''۔ (ابن ماجہ، ابوداؤد)

٭ حضرت یحییٰ بن مرہؓ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاؒ: ''حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں، جس نے حسینؓ کو محبوب رکھا اس نے اللہ عزوجل کو محبوب رکھا''۔ (ترمذی شریف)

٭ امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب میں ایک روایت درج کی ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی ضرورت کے لیے رات کے وقت رسول اللہﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، آپؐ کوئی چیز چادر میں چھپائے ہوئے باہر تشریف لائے، جب میں اپنی بات پوری کرچکا تو میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ چادر میں کیا چھپائے ہوئے ہیں؟ آپؐ نے چادر ہٹائی تو اس کے نیچے سے حسنؓ اور حسینؓ ظاہر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ''یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی (فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے بیٹے ہیں، اے اللہ عزوجل! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تُو بھی ان دونوں سے محبت رکھ اور ان دونوں سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت رکھ''۔(ترمذی شریف)

٭ حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے ''حسنؓ و حسینؓمیرے بیٹے ہیں جس نے ان کو محبوب رکھا اس نے مجھ کو محبوب رکھا، اور جس نے مجھے محبوب رکھا، اس نے اللہ عزوجل کو محبوب رکھا، اللہ عزوجل نے اس کو جنت میں داخل کیا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا، اس نے اللہ عزوجل سے بغض رکھا، اور جس نے اللہ عزوجل سے بغض رکھا، اللہ عزوجل نے اس کو جہنم میں داخل کیا''۔(المستدرک حاکم 166/3)

٭ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ ''جس نے حسنؓ اور حسینؓ کو محبوب رکھا اس نے درحقیقت مجھے محبوب رکھا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھا''۔ (ابن ماجہ64/1)

٭ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''لوگو! اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو، کیونکہ وہ تمہارا ربّ ہے اور تمہیں نعمتیں عطا فرماتا ہے اور مجھ سے محبت رکھو اللہ کی محبت کی وجہ سے اور میرے اہلِ بیت کو محبوب رکھو، میری محبت کی وجہ سے ''۔(ترمذی و مشکوٰۃ 573)

٭ ایک دوسرے مقام پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ''کہ میرے اہلِ بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جو باہر رہا وہ غرق ہوا''۔ ان تمام مندرجہ بالا احادیث و روایات سے ثابت ہوا کہ اہلِ بیت اطہار کی محبت ہر مسلمان پر واجب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حسین کریمینؓ سے کتنی محبت تھی کہ آپﷺ نے ان سے محبت کو اپنی محبت اور ان سے عداوت کو اپنی عداوت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اہلِ بیتِ اطہار سے بے حد محبت فرماتے اور ان کا ادب و احترام کرتے تھے۔