امریکی ایوان نمائندگان کا فیصلہ

امریکی ایوان نمائندگان نے جو بل منظور کیا ہےوہ یقیناً پاکستان کے لیے مایوس کن ہے


Editorial May 22, 2016
پاکستان کی حکومت کو بلاتاخیر اس ایشو پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو:فائل

امریکی ایوان نمائندگان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت پاکستان کے لیے 54 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی فراہمی کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی سے مشروط کر دیا ہے، بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہا اس پر ارکان کانگریس کی طرف سے مایوسی کا اظہار کیا گیا او ر جب تک وہ موثر کارروائی نہیں کرتا اس کی فوجی امداد کو روک لیا جائے کیونکہ ارکان کانگریس یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گروپ افغانستان میں امریکی افواج کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، بل میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امداد کے لیے شکیل آفریدی کو بھی فوری طور پر رہا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ ایف 16 طیاروں کے لیے امداد پر بھی پابندی عائد کر چکی ہے، واضح رہے کہ ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے عمل سے قبل کانگریس کو بھیجے گئے ایک پالیسی بیان میں وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے بارے میں قانون سازوں کی تشویش کو سراہتا ہے، لیکن وہ امداد پر قدغن کے اقدام سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ یہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت کو"غیر ضروری طور پر پیچیدہ" کرے گا۔ ایوان نمائندگان میں منظور ہونے والے بل کے تحت پینٹاگان کو یہ تصدیق کرنا ہو گی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے فوجی آپریشن کر رہا ہے اور اسے شمالی وزیرستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہا اور سرحدی علاقوں میں اس نیٹ ورک کے خلاف افغانستان کی حکومت کے ساتھ مل کر مربوط کارروائیاں کر رہا ہے۔

2017ء کے دفاعی بل کا مسودہ تیار کرتے وقت ایوان نمائندگان کے ارکان نے پاکستان سے متعلق تین ترامیم شامل کی تھیں جنھیں متفقہ رائے شماری سے منظور کر لیا گیا۔ ایک اور شرط کے مطابق وزیر دفاع یہ تصدیق کریں کہ پاکستان امریکا کی طرف سے فراہم کی گئی رقم یا فوجی ساز و سامان یا اپنی فوج کو ملک میں اقلیتی برادریوں کے خلاف مظالم کے لیے نہیں استعمال کر رہا۔ وائس آف امریکا کے مطابق ایوان نمائندگان کی طرف سے منظور کیا جانے والا مسودہ اس قانون کا حتمی مسودہ نہیں، اسے سینیٹ سے منظوری کے بعد امریکی صدر کی منظوری بھی درکار ہو گی جو اسے ویٹو بھی کر سکتے ہیں۔

ادھر عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی دھشتگردی کے خلاف بے مثال کامیابیوں کو پاکستانی حکومت کے کرتا دھرتا امریکی ارکان کانگریس تک پہنچانے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں خاص طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی صریحاً ناکام ہو چکی ہے، تحریک انصاف کی ترجمان برائے خارجہ امور شیریں مزاری نے بھی کہا کہ اس بل کی منظوری دراصل ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اپنا مقدمہ ارکان کانگریس کے سامنے ٹھیک طریق سے پیش ہی نہیں کر سکا، موثر خارجہ پالیسی کے ذریعے امریکا کو اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت ایف 16 طیاروں کی فراہمی ممکن بنائے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے جو بل منظور کیا ہے، وہ یقیناً پاکستان کے لیے مایوس کن ہے۔ اگر امریکی سینیٹ اسے منظور کر لیتی ہے اور صدر اس پر دستخط کر دیتا ہے تو یہ قانون بن جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یقیناً پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ یہ بات قدرے منطقی لگتی ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان سے پاکستان مخالف بل کی منظوری پاکستان کی وزارت خارجہ کی ناکامی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان کا رویہ اور موڈ خاصے عرصے سے عیاں ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کو اس کا ادراک ہونا چاہیے تھا اور اس کی پیش بندی کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے تھی۔

عجیب بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے، اس نے وزارت خارجہ کا قلمدان کسی کے سپرد نہیں کیا۔ یہ قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے۔ اگر وزارت خارجہ اس معاملے میں متحرک کردار ادا کرتی اور پاکستان کے لیے لابنگ کرتی تو صورت حال میں تبدیلی لائی جا سکتی تھی۔ صورت حال اب بھی پوری طرح ہاتھ سے نہیں نکلی۔ امریکی سینیٹ اور صدر کا کردار ابھی باقی ہے۔ ایسے موقع پر پاکستان کو امریکا میں لابنگ کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے وزارت خارجہ جیسی اہم ترین وزارت کے لیے کسی منجھے ہوئے سیاست دان یا بیورو کریٹ کو ذمے داری سونپی جانی چاہیے۔

ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے عفریت کو جس طرح سے بوتل میں بند کیا ہے، اس کی مثال سری لنکا کے سوا شاید ہی کسی اور جگہ ملتی ہو۔ مسلح افواج اب بھی شمالی وزیرستان میں برسر پیکار ہیں۔ جہاں تک حقانی نیٹ ورک کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کا اب کوئی تعلق نہیں ہے، اس کی مثال شمالی وزیرستان میں کیا جانے والا آپریشن ضرب عضب ہے۔ یہ آپریشن تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف ہے اور اس میں کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ اگر ہم یہ حقیقت امریکا کو سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ امریکا ہماری فوجی امداد بحال نہ کرے۔ پاکستان کی حکومت کو بلاتاخیر اس ایشو پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔