توانائی بحران میگا پراجیکٹ شروع کرنا ہوگا جرمن ماہر

انرجی بجٹ کا 20 فیصد شمسی توانائی پر لگایا جائے تو بجلی کا بحران ختم ہو جائیگا۔


Business Reporter November 20, 2012
سڑکوں مساجدوپارک لائٹس سولر انرجی پر منتقل کی جائیں، ورکشاپ سے خطاب فوٹو: فائل

عالمی سرمایہ کار پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلیے تیار ہیں کیونکہ اس خطے میں سورج کی مسلسل روشنی کے باعث شمسی توانائی بہت زیادہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔

یہ بات شمسی توانائی کے جرمن ماہر رافیل لیچر نے رینیوایبل اور آلٹرنیٹ انرجی ایسوسی ایشن کے تحت فوٹو وولیٹک سولر سٹم پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پرمہمان خصوصی سابق سکریٹری متبادل توانائی بورڈ ڈاکٹر نسیم خان، ایسوسی ایشن کے کراچی چیپٹر کے چیئرمین ساجد عباس و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جرمن ماہر رافیل لیچر نے کہا کہ جرمنی کے تعاون سے پاکستان میںشمسی توانائی کے کئی منصوبوں پر کام ہورہاہے مگر بجلی و گیس کے بحران ختم کرنے کیلیے میگا پروجیکٹ کی ضرورت ہے، حکومت و نجی اداروں کو جرمنی سمیت تمام ملکوں سے سرمایہ کاری ماہرین اور ٹیکنالوجی مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پورے سال سورج کی روشنی دستیاب ہے اور یہاں پر اچھے انجینئرز اور ٹیکنیشن بھی موجود ہیں، شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کو دگنا کیا جاسکتا ہے، حکومت توانائی کیلیے ہائیڈروپاور، تھرمل پاور اورآئی پی پیز کے منصوبوں میں اربوںروپے خرچ کرچکی ہے۔

اگر اس کا 20 فیصد شمسی توانائی پر خرچ کردیا جائے تو ملک بجلی کے بحران سے نکل سکتا ہے مگر حکومت نے اس شعبے میں کوئی سنجیدہ کام نہیں کیا، حکومت اس شعبے میں تحقیق، ترقی اور تربیت کیلیے بڑے اقدامات کرے اور نجی شعبے کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تمام سڑکوں، مساجد، پارکوں کی لائٹس، ہورڈنگز کو سولر پر منتقل کردیا جائے اور اس سلسلے میں آگہی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ تھرپارکر اور اندرون سندھ اس وقت 5 ہزار سے زائد گھروں میں شمسی توانائی سے بجلی فراہم کی جارہی ہے اور مزید سرمایہ کاری سے دیہی علاقوں میں بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔