قومی اسمبلیگیلانی کے اقدامات کوتحفظ دینے کابل منظور

توثیق درست نہیں، ن لیگ کااحتجاج، مسائل پیدا ہوسکتے تھے، فاروق نائیک


Numainda Express November 20, 2012
توثیق درست نہیں، ن لیگ کااحتجاج، مسائل پیدا ہوسکتے تھے، فاروق نائیک. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: قومی اسمبلی نے پیرکو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے 26 اپریل سے 19جون تک کے اقدامات کو تحفظ دینے کابل کثرت رائے اور تجارتی تنظیموں کی رجسٹریشن اور انضباط کے احکام وضع کرنے کے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی ۔

اجلاس کی صدارت پینل آف چیئرمین کی رکن بیگم یاسمین رحمان نے کی، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے یوسف رضا گیلانی کے بطور وزیراعظم 26 اپریل سے 19 جون تک کے اقدامات کو تحفظ دینے کا توثیق بل 2012 پیش کیا،ن لیگ نے بل کی مخالفت کی تاہم اسکے باوجود اس کی ایوان سے کثرت رائے سے منظوری ملی، تجارتی تنظیموں کی رجسٹریشن اور انضباط کے احکام وضع کرنے کا بل 2012 بھی فاروق ایچ نائیک نے منظوری کیلئے پیش کیا ، ایوان نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دی۔ ن لیگ کی سائرہ افضل نے کہا کہ یہ بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے متفقہ طور پر منظور نہیں ہوا ، ن کے زاہد حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سزا یافتہ شخص کے اقدامات کو اس طرح پارلیمنٹ سے توثیق دینا مناسب نہیں، ن لیگ کے بشیر ورک نے کہا کہ یہ تو فوجی آمروں کی روایت ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے اپنے اقدامات کی توثیق کرواتے ہیں جو انہوں نے آئین معطل کر کے کئے ہوں۔

قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی چیئرپرسن بیگم نسیم چودھری نے کہا کہ ن لیگ کے 2 ارکان کی مخالفت کے باوجود کمیٹی نے بل کو اکثریت سے منظور کیا ، ن لیگ کے خرم دستگیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے اقدامات کو تحفظ دینے کا بل غیر قانونی ہے، وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے اقدامات کو اندھا دھند توثیق نہیں دی جا رہی بلکہ توثیق نہ دینے سے قانونی اور آئینی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق حکومت اور ن لیگ میں اتفاق رائے نہ ہونے پر احتساب بل کو پھر موخر کر دیا گیا ، اب بل 3 دسمبر کو قومی اسمبلی کے آئندہ سیشن میں منظوری کیلیے پیش کیاجائیگا۔ اجلاس میں وزیراعظم پرویز اشرف نے بھی شرکت کی، ارکان ان سے اپنی درخواستوں پر دستخط کرواتے رہے، اسمبلی کا اجلاس آج منگل کو گیارہ بجے ہوگا۔