سندھ میں حکمراں جماعتوں کے عسکری ونگ ہونگے تو امن کیسے ہوگا نواز شریف

وفاق میں بیٹھے حکمراںکرپشن سے حاصل ہونے والی رقم انتخابات کیلیے استعمال کر رہے ہیں


Numainda Express November 20, 2012
31دسمبرکو انتخابی منشور عوام کے سامنے لا نے کا اعلان،آصف زرداری اور راجا پرویز اشرف کو انتخابات کے حوالے سے کوئی خط نہیں لکھا فوٹو: فائل

MUZAFFARABAD: مسلم لیگ (ن)کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن تنہا نہیں لڑیں گے انتخابات میں جماعت اسلامی ' فنکشنل لیگ ' ہم خیال اوردیگر جماعتوں سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کریں گے ۔سندھ میں حکمراں جماعتیں اپنے عسکری ونگ ختم کریں۔

اس طرح کے شواہد مل رہے ہیں کہ وفاق میں بیٹھے حکمراںکرپشن سے حاصل ہونے والی رقم انتخابات کیلیے استعمال کر رہے ہیں۔وہ پیر کو سپریم کورٹ بار کے صدر میاں اسرار الحق اور عاصمہ جہا نگیر کی قیادت میں وفد سے ملاقات اور سینئر کالم نگار عطاء الحق قاسمی کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ الیکشن کے التوا کے حوالے سے کسی بات کا کسی سطح پر کوئی وجود نہیں صحافیوں کو ایسی افواہوں سے گریز کرنا چاہیے ۔ انتخابات کا التوا کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔انھوں نے ایک سوال پر کہا کہ بنگلہ دیش ماڈل اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ انھوں نے31دسمبرکو پارٹی کا انتخابی منشور عوام کے سامنے لا نے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں تنہا نہیں جائے گی ' جماعت اسلامی ' فنکشنل لیگ ' ہم خیال سمیت دیگر جماعتوں سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کریں گے ۔

آصف زرداری اور وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کو انتخابات کے حوالے سے کوئی خط لکھا اور نہ ہی ان سے کوئی رابطہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات نا گزیر ہیں ۔ یہ پہلی جمہوری حکومت ہے جو اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے ' سب چاہتے ہیں کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لائیں اور اس کے لیے ہم نے بھی بطور اپوزیشن بڑے طعنے سنے ہیں ۔دھاندلی دو قسم کی ہوتی ہے ایک انتخابات کے روز اور ایک انتخابات سے قبل ' ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کرپشن کے پیسے کو انتخابات کے لیے استعمال کر رہی ہے ۔موٹر سائیکل پر پابندی اور موبائل فون بند کرنا مسائل کا حل نہیں حکومت حالات خراب کرنے والے عناصر پر ہاتھ ڈالے ۔ خورشید شاہ جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں یا حکومت سے ؟وہ وہ میڈیا میں بات کرنے کے بجائے حکومت سے کہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں جو جماعتیں بر سر اقتدار ہیں ان کے عسکری ونگز ہیں ' جب جماعتوں میںیہ سب کچھ ہوگا تو پھر ملزمان کس طرح پکڑے جائیں گے ، اگر ان عسکری ونگز کا خاتمہ کردیا جائے تو80فیصد جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔ انھوںنے ایک سوال پرکہا کہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملے بربریت کی بد ترین مثال ہے۔