بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہو

بجٹ دراصل اعداد و شمار کا ایک ایسا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا


Editorial May 26, 2016
ملک میں چالیس فیصد روزگار زراعت سے وابستہ ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے باعث اس سیکٹر کا برا حال ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آمدہ بجٹ میں ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے مگر ٹیکس نہ دینے والوں کی زندگی اجیرن بنا دیں گے، ترقیاتی اور دفاعی بجٹ میں اضافہ اور اخراجات کم کرکے ترقی کی شرح میں اضافہ کریں گے، بجٹ کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کی تجاویز کا خیرمقدم کریں گے، 2018ء میں بجلی کا بحران ختم کریں گے ۔ یہ بات انھوں نے ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے زیراہتمام ''امیدیں، توقعات اور خدشات'' کے عنوان سے پری بجٹ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

یہ ایک تلخ مگر معروضی حقیقت ہے کہ قومی میزانئے ہر سال بڑے تزک و احتشام سے پیش کیے جاتے ہیں۔ بجٹ دراصل اعداد و شمار کا ایک ایسا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا ، لیکن اس کی دلچسپی اور روز مرہ کی ناگزیر ضروریات اسے ہر نئے بجٹ پر ایک مالیاتی نرگسیت میں مبتلا کردیتی ہیں، اور وہ امیدوں کے نئے دیپ جلاتا ہے ، اس آرزو میں جیتا ہے کہ حکومت اسے بھی جمہوری ثمرات سے مستفیض کرےگی ، لیکن المیہ یہ رہا ہے کہ ہر بجٹ اس کی زندگی کو غم کا فسانہ بنا دیتا ہے ۔

یہ سلسلہ جاری ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک ایسا مثالی،عوام دوست اور حقیقت پسندانہ اقتصادی نظام وضع نہیں کیا گیا جو استحصال اور لوٹ کھسوٹ سے پاک ہو ، فلاحی مملکت کے بنیادی تصورات کی عملی تصویر پیش کرے اور جو ارتکاز اور ہوس زر کے ناجائز طریقوں پر بند باندھ کر غربت و امارت کی اس کشمکش سے غریب الوطنوں کو نجات دلائے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے دکھوں کا مداوا کرے اور انھیں بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل ہوں۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے مگر ٹیکس نہ دینے والوں کی زندگی اجیرن کردیں گے، بسم اللہ! ،خدا کرے بجٹ عوام کے لیے نصیبوں والا ہو مگر حقائق یہ ہیں کہ حکومت کی نظر صرف ٹیکس نیٹ بڑھانے پر ہے۔

ٹیکس ضرور لیں، کروڑوں مالیت کے شاپنگ پلازاؤں، محلات ، فارم ہاؤسز، اور جائیدادوں کے مالکوں پر ٹیکس لگائیں، احتساب کا شکنجہ کس لیں کیونکہ کوئی ریاست ٹیکسوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی ، تاہم وزیر خزانہ سے زیادہ کون اس حقیقت سے آشنا ہوگا کہ جو قانون سے بالاتر زردار، ارب پتی ان ٹچ ایبلز ہیں ان کا تو سارا پیسہ باہر ہے، اثاثے بیرون ملک ہیں، اشرافیہ ٹیکس نیٹ میں آنے والی مچھلی ثابت نہیں ہوئی۔

معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ50 برس قبل مئی 1966 ء میں اس وقت کے وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ٹیکسوں کی چوری کو پوری قوت سے روکا جائے گا، لیکن ان برسوں میں مختلف حکومتیں عملاً ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں، اور کم از کم بڑی ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کا اجرا بھی کیا جاچکا ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے حکمران ٹیکسوں کا منصفانہ نظام وضع نہیں کرسکے جب کہ دعوے ہر مالی سال کے بجٹ کے موقع پر ضرور ہوتے رہے کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی بڑھانے کے ضمن میں تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات اور چھپی ہوئی دولت کی نقاب کشائی کی کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔ وزیر خزانہ نے ماضی اور موجودہ حکومت کے اقتصادی ، سماجی اور مالیاتی اقدامات کا جو تقابل پیش کیا ہے وہ خوش آیند تب ہوگا جب یہ توقعات اور امیدوں کا سراب ثابت نہ ہو۔

اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ جب مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار آئی تو پاکستان کی معاشی حالت بہت خراب تھی اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، اس وقت ماہرین کہتے تھے کہ پاکستان کی حالت درست ہونے میں چار سے پانچ سال کا عرصہ لگے گا، یہ ایک مشکل چیلنج تھا مگر ہم نے معیشت کی بہتری کے لیے روڈ میپ تیار کرکے نئے سفر کا آغاز کیا اور محض تین سال کے مختصر عرصے میں ملک کی معیشت کو درست سمت میں لے آئے۔ ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کے تحت اپنے اخراجات میں کمی کی، وزیراعظم کا صوابدیدی فنڈ جو 42 ارب روپے تھا کو زیرو کردیا، 32 کے قریب اداروں کا سیکرٹ فنڈ ختم کردیا، ہم نے معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبے تیار کیے ہیں جو آنیوالی حکومتوں میں بھی جاری رہیں گے۔

اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی ترقی کا آغاز ہے، عالمی سطح پر جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2050ء تک پاکستان کی معیشت دنیا کی 18ویں کامیاب معیشت ہوگی مگر ہماری کوشش ہوگی کہ 2030ء تک پاکستان کو اس صف میں لاسکیں ۔ وزیر خزانہ نے کہا ملک میں کپاس کی کم پیداوار لمحہ فکریہ ہے، پہلے ملک میں کپاس کی پیداوار بھارت سے زیادہ تھی مگر بدقسمتی سے صوبے زراعت پر پوری توجہ نہیں دے سکے۔

ملک کو توانائی بحران کے بعد پانی کی قلت کا سامنا ہے، اگر کالاباغ ڈیم پر صوبے متفق نہیں ہورہے تو ہمیں دیگر ذرایع کی جانب دیکھنا ہوگا، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ چوتھا بجٹ ہے جو آئی ایم ایف کی زیرنگرانی پیش کیا جارہا ہے، وزیر خزانہ نے پہلی بجٹ تقریر میں ایک روڈ میپ دیا تھا، مگر ہمیں نہ تو تنظیم نو نظر آرہی ہے ، حکومت چار سال سے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، ٹیکس چھوٹ اسکیم متعارف کرائی، اس اسکیم میں چار بار توسیع کی گئی مگر اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا، ایکسپورٹ میں کمی کی وجہ ٹیکسٹائل کا بحران ہے۔

ملک میں چالیس فیصد روزگار زراعت سے وابستہ ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے باعث اس سیکٹر کا برا حال ہے، سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک کے مطابق حکومت ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے جو فائلر تاحال نہیں بنے ہیں، اقتصادی راہداری اہم ہے، اس کے گرد زرعی فارمنگ اور فی ایکڑ پیداوار پر کام کریں تو بہت بہتر ہوگا، کراچی اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین عارف حبیب نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے جس کی وجہ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی ہے، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی ہوگئی ہے اس لیے انکم ٹیکس کی حد چار لاکھ سے بڑھا کر ڈبل کی جائے، حکومت ٹیکس نیٹ کو آسان اور رضاکارانہ ٹیکس اسکیم شروع کرے۔

معروف تجزیہ نگار ضیاء الدین نے کہا ملک میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، اصل دولت چند ہاتھوں میں چلی گئی ہے، ملک 38 سال سے حالت جنگ میں ہے، ملک میں چارٹر آف اکانومی کی نہیں بلکہ چارٹر آف آرمی اور سول کی ضرورت ہے۔آباد کے سینئر نائب صدرعارف یوسف نے کہا کہ دبئی میں معیشت متاثر ہوئی ہے، اب پاکستان کے سرمایہ کار اپنا سرمایہ واپس لانا چاہتے ہیں، حکومت ایمنسٹی اسکیم لائے۔بلاشبہ پانامہ لیکس کے پس منظر میں آنے والا بجٹ اس راز پر سے بھی پردہ ہٹائے کہ ایسے کئی ''پانامہ'' ملک کے اندر ابھی موجود ہیں ۔ ٹیکس کی وصولی کا کلچر ضرور مستحکم ہو مگر زرعی معیشت پر مکمل توجہ کی ضرورت ہے۔ ہاری، کسان، مزدور اور کروڑوں ابنائے وطن معاشی ثمرات سے محروم ہیں ، انھیں مہنگائی سے نجات ملے ، ایسا بجٹ لائیے۔