محمد علی کرکٹ کے بھی شوقین تھے لارڈزٹیسٹ دیکھا

عظیم باکسر کو کرکٹرز کا بھی خراج عقیدت ،سب کیلیے مشعل راہ تھے،آفریدی


Sports Reporter June 05, 2016
حقیقی چیمپئن تھے (مصباح) ٹنڈولکر، وان، اسٹین، آملا و دیگر نے بھی ستائش کی۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: محمد علی کرکٹ کا بھی شوق رکھتے تھے، لارڈز ٹیسٹ 1966 میں ویسٹ انڈین ڈریسنگ روم کا دورہ کرکے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھایا، ماہر بیٹسمین کی طرح ہوا میں اسٹروکس بھی کھیلے، عظیم باکسر کو کرکٹرز نے بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محمد علی کو کرکٹ کا بھی شوق تھا، سر گیری سوبرز نے اپنی سوانح حیات میں لکھاکہ انھوں نے 1966کے لارڈز ٹیسٹ میں ویسٹ انڈین ڈریسنگ روم کا دورہ کرکے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا، اس دوران انھوں نے ماہر بیٹسمین کی طرح ہوا میں اسٹروکس بھی کھیلے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بیٹنگ تکنیک سے واقف ہیں، دریں اثنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کرکٹرز نے بھی عظیم باکسر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

سابق کپتان شاہد آفریدی نے انھیں سب کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ سب کیلیے مشعل راہ تھے۔ ٹیسٹ ٹیم کے قائد مصباح الحق نے کہا کہ محمد علی حقیقی چیمپئن تھے، محمد حفیظ نے ان کو عظیم اسپورٹس مین قرار دیا، احمد شہزاد نے کہا کہ انھوں نے ہمیں سکھایا کہ کس طرح اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے باوجود عروج حاصل کرسکتے ہیں۔ سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے کہا کہ سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ ایک دن ہم سب کو اس دنیا کو چھوڑ کر چلے جانا ہے، خدا انھیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔

سابق بھارتی بیٹسمین سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ محمد علی میرے بچپن کے ہیرو ہیں، میرے دل میں ہمیشہ ان سے ملاقات کی خواہش رہی جو اب کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ یوراج سنگھ نے بھی انھیں حقیقی چیمپئن قرار دیا۔ انگلینڈ کے مائیکل وان نے کہا کہ وہ اپنی نوعیت کے واحد اور عظیم انسان تھے۔ جنوبی افریقی پیسر ڈیل اسٹین نے نیلسن منڈیلا کے ساتھ عظیم باکسر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ دو متاثر کن افراد جو دوسروں کے حقوق کیلیے جدوجہد کرتے رہے، آئیں ان کا مشن آگے بڑھائیں۔ ہاشم آملا نے لکھا کہ وہ ایک عظیم انسان اور استاد تھے جنھیں دنیا بھر میں محبت دی جاتی ہے۔