فروٹ ایکسپورٹرز نے روسی شرط پر وزارت تجارت سے مدد مانگ لی

مخصوص لیب سرٹیفکیشن شرط کی جانچ پڑتال کی جائے، سیکریٹری کامرس کو خط


Business Reporter November 22, 2012
برآمدات متاثر ہونگی، وزارت فوڈ سیکیورٹی کو بھی تحفظات سے آگاہ کردیا، وحید احمد فوٹو: ایکسپریس

پاکستانی ایکسپورٹرز نے روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پاکستانی پھل اور سبزیوں کیلیے نجی لیبارٹری کی سرٹیفکیشن کی شرط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزارت تجارت سے مدد طلب کرلی ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکریٹری کامرس منیر قریشی کو ارسال کردہ ایک ہنگامی مراسلے میں روسی حکام کی جانب سے پاکستان میں ایک نجی لیبارٹری کے سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے کی شرط کی سرکاری طور چھان پھٹک کی درخواست کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق روسی حکام کی بلاجواز شرط سے روس کو کی جانے والی 7کروڑ ڈالر کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، روسی شرط کے باعث آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے کینو ایکسپورٹ سیزن کیلیے اب تک کوئی سودے نہیں کیے گئے۔

روسی حکام کی شرط عائد رہنے کی صورت میں کینو اور آلو کی برآمد میں نمایاں کمی اور اس سال بھی کینو کی برآمد کا ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ روسی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ایک وفد نے 12سے 18 نومبر کے دوران سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں آلو، کینو اور آم کے باغات کے علاقوں کا دورہ کیا جس میں تمام باغات اور فیکٹریاں عالمی معیار کے مطابق پائی گئیں۔

تاہم روسی حکام نے 17 نومبر کو کراچی میں ہونے والے ایک اجلاس میں لاہور کی ایک نجی لیبارٹری گرین فائونڈیشن کی سرٹیفکیشن لازمی قرار دینے کی شرط عائد کردی جس پر ایکسپورٹرز نے اعتراضات سے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کردیا ہے۔ وحید احمد نے کہا کہ جس نجی لیبارٹری کا انتخاب کیا جارہا ہے اس میں دستیاب سہولتوں اور ٹیسٹنگ کے معیار کے بارے میں بھی ایکسپورٹرز کو تحفظات ہیں جن سے وفاقی وزارت تجارت اور وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو آگاہ کردیا ہے۔