پاکستان کو درپیش چیلنجز

دہشت گردی کا صفایا کرنے کے لیے پاک فوج اپنا کردار ادا کررہی ہے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے


Editorial June 07, 2016
۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن یہ جذبہ دو طرفہ ہونا چاہیے فوٹو: این این آئی

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کو اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کے افتتاح، پولس لائنز میں480ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اقتصادی راہداری منصوبے کو ختم نہیں کرسکتی، اس منصوبے سے ترقی و خوشحالی کاانقلاب آئے گا، پاکستان میں گرفتار کیا گیا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کوئی عام شہری نہیں بلکہ وہ ایک دشمن کے طور پر ملک میں داخل ہوا، اسے قونصلر رسائی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہمیں روایتی پولیسنگ نہیں کرنی، تبدیلی لانی ہے، وہ تبدیلی نہیں جس کا نعرہ ایک سیاسی جماعت لگاتی ہے بلکہ حقیقی تبدیلی لانی ہے، اسلام آبادمیں سیف سٹی منصوبے سے وفاقی دارالحکومت کو جرائم اور دہشت گردی سے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی، جرائم کی شرح صفر ہونے تک چین سے بیٹھیں گے اور نہ مطمئن ہوں گے، اسلام آباد پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کردیا ہے، یہ مکمل آزادی سے کام کررہی ہے، اب تک جو کہاکر کے دکھایا، شناختی کارڈز کی تصدیق کا کام بھی کر گذریں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے جن ایشوز پر بات کی ہے، وہ سب اپنی اپنی جگہ پر اہمیت کے حامل ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری یقینی طور پر ایک گیم چینجر منصوبہ ہے اور پاکستان کی مستقبل کی اقتصادی و معاشی ترقی کا انحصار اس منصوبے کی تکمیل سے وابستہ ہے، اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی غیر ملکی قوتیں اس منصوبے کی تکمیل نہیں چاہتیں، ممکن ہے کہ داخلی سطح پر بھی چند عناصر ان قوتوں کے آلہ کار ہوں بلکہ پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی جو وارداتیں ہو رہی ہیں ان کے ڈانڈے ان غیر ملکی قوتوں سے ملتے ہیں جو پاکستان کی ترقی نہیں چاہتیں۔

اس لیے پاکستان کو اس معاملے میں پوری طرح چوکنا اور چوکس رہنا ہو گا۔ غیر ملکی قوتیں ہمارے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں، یہاں دہشت گردی کو بھی ہوا دینے کی کوششیں جاری ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے تمام اداروں کو متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔سیاسی جماعتوں، علماء و مشائخ ،اہل علم اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

دہشت گردی کا صفایا کرنے کے لیے پاک فوج اپنا کردار ادا کررہی ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن ملک میں منفی قوتیں تاحال موجود ہیں، یہ قوتیں دہشت گردوں کی آلہ کار اور مدد گار ہیں ۔پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں میں یہی قوتیں ملوث ہیں۔ان قوتوں کا پتہ لگانے کے لیے جہاں ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار بہت اہم ہے،وہاں پولیس کی ذمے داری اور اہمیت بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمیں روایتی پولیسنگ نہیںکرنی بلکہ تبدیلی لانی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پولیس کا روایتی نظام اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کی جدید خطوط پر تربیت بہت ضروری ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پولیس پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی لاگو ہونا چاہیے تاکہ کوئی پولیس افسر یا اہلکار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کر سکے۔موجودہ پولیس کلچر نے افسروں اور اہلکاروں کو ایک خاص رنگ میں رنگ دیا ہے۔ شہروں اور دیہات میں پولیس معمولی نوعیت کے جرائم کے خاتمے کو ہی اہم سمجھتی ہے لیکن دہشت گردی وغیرہ کو شاید وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر سمجھتی ہے۔ حالانکہ اگر پولیس کا مخبری نظام فعال ہو اور اس کا ٹارگٹ دہشت گردوں کو قابو کرنا ہو تو بہت سے دہشت گرد واردات سے پہلے ہی گرفتار ہو سکتے ہیں۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن کا معاملہ بھی بہت اہم ہے، بھارت کلبھوشن تک قونصلر رسائی مانگ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بہت اہم معاملہ ہے کیونکہ بلوچستان اور کراچی میں جو بدامنی پھیلی ہے، اس میں کلبھوشن یادو جیسے کردار ہی ملوث ہیں۔ پاکستان بلوچستان کے معاملے میں پہلے بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ یہاں بدامنی پھیلانے میں بھارتی ایجنسی ملوث ہے۔ بہر حال کلبھوشن یادو کے معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن یہ جذبہ دو طرفہ ہونا چاہیے ۔اگر بھارت پاکستان میں گڑ بڑ کرانے کی کوشش کرتا رہے گا تو ایسی صورت میں کیسے ممکن ہے کہ پاکستان خاموش رہے۔

بہر حال پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنے ارد گرد کے حالات پر گہری نظر رکھے،خطے میں دو رس تبدیلیاں ہو رہی ہیں،خطے کے ممالک نئی پیش بندیاں کر رہے ہیں،ایسی صورت میں پاکستان کو خارجہ سطح پر چوکنا رہنا ہے اوراندرون ملک سرگرم عمل منفی قوتوں کے خلاف بھی شکنجہ کسا جانا چاہیے تاکہ وطن عزیز میں معاشی ترقی کا سفر جاری و ساری رہ سکے۔