امریکا بھارت کو تھپکی نہ دے

صدر بارک اوباما کی طرف سے مودی کے دورہ امریکا میں پاکستان کو ملنے والا حکمنامہ رعونت کے ساتھ پیش کیا گیا۔


Editorial June 09, 2016
صدر بارک اوباما کی طرف سے مودی کے دورہ امریکا میں پاکستان کو ملنے والا حکمنامہ رعونت کے ساتھ پیش کیا گیا۔فوٹو؛ اے ایف پی

KARACHI: امریکی صدر بارک اوباما نے پاکستان سے 2008 کے ممبئی اور 2016 کے پٹھانکوٹ حملے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں دونوں رہنماؤں نے القاعدہ، داعش، جیش محمد، لشکر طیبہ، ڈی کمپنی و دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف تعاون میں مزید مضبوطی لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

بلاشبہ صدر بارک اوباما کی طرف سے مودی کے دورہ امریکا میں پاکستان کو ملنے والا حکمنامہ رعونت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ہر پہلو سے اس فرمان میں بھارت کی خوشنودی اور پاکستان کی سرزنش عیاں ہے، ساتھ ہی امریکا بھارت تعلقات کی گھن گرج سے بدنام زمانہ گن بوٹ ڈپلومیسی اور گاجر اور چھڑی کی پالیسی کی یاد دلائی گئی ہے، ایک ایسے موڑ پر جب پاک امریکا تعلقات میں گرم جوشی میں کمی آئی ہے،امریکا نے خطے کے زمینی حقائق کو ایک بار پھر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ایک قابل اعتماد حلیف کے مقابلہ میں اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

ایک طرف تو یہ صورتحال ہے اور دوسری جانب نوشکی میں ڈرون حملہ کے مضمرات اور ڈیمج کنٹرول کے لیے دو اعلیٰ امریکی عہدیدار اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، ظاہر ہے امریکی ڈرون حملہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کے بقول اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، امریکا کو ہماری ملکی سلامتی اور خود مختاری کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن حیرت ہے کہ صدر اوباما کی بھارت پر نوازشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا، امریکا اس حقیقت کا بھی ادراک نہیں کر رہا کہ جن کالعدم تنظیموں کے خلاف بھارتی تعاون کی بات کی جا رہی ہے۔

ان کے خلاف پاک فوج نے پہلے سے ضرب عضب آپریشن شروع کیا ہے اور حقانی نیٹ ورک سمیت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد دھڑوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے، اگر امریکا کو جنوبی ایشیا میں امن چاہیے تو وہ افغانستان سے کہے کہ ملا فضل اللہ سمیت تمام طالبان کمانڈروں کو پاکستان کے حوالے کرے جو وہاں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشتگردی کراتے ہیں۔ دہشتگردی سے انسانیت کو لاحق خطرات پر تشویش اور پیرس سے لے کر پٹھانکوٹ اور برسلز سے لے کر کابل تک دہشتگرد حملوں کی مذمت کافی نہیں، امریکا بھارتی جنگی عزائم اور خطے میں اسلحہ کی اندھی بھارتی دوڑ کا نوٹس لے۔ امریکی پالیسی سازوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ امریکا کا بھارت کی جانب حد سے زیادہ جھکاؤ برصغیر کے امن کے لیے ضرب کاری ثابت ہو سکتا ہے۔

حالات وواقعات کا جائزہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ خطے کا چوہدری پاکستان نہیں بننا چاہتا بلکہ یہ خواہش بھارت کی ہے ۔بھارتی جنگی دیوانگی کو مل کر روکنے کی ضرورت ہے، مگر بجائے اس کے بھارت و امریکا ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے فوجی نظام کے استعمال کی بات کرتے ہیں ۔ کیا مطلب ہے ، کیا برصغیر میں ایک نئی آگ بھڑکانے کا ارادہ ہے؟

چنانچہ پاکستان نے بجا طور پر نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں رکنیت کے حصول کے لیے باضابطہ لابنگ شروع کردی۔ یہ رد عمل فطری ہے، اس سلسلہ میں دفتر خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ تسنیم اسلم نے این ایس جی ممالک کے سفیروں کو بریفنگ بھی دی ، ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جو پاکستان کی این ایس جی میں ممبرشپ کے لیے ٹھوس جواز فراہم کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ نان این پی ٹی ریاستوں کے لیے این ایس جی ممبرشپ کے لیے غیر امتیازی معیار اپنایا جائے، کسی ایک ملک کو خصوصی رعایت دینے سے جنوبی ایشیاء کے اسٹرٹیجک استحکام پر منفی اثرات پڑیں گے۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم نوازشریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے روس، نیوزی لینڈ اور جمہوریہ کوریا کے وزراء خارجہ کو فون کر کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت کے لیے حمایت کی درخواست کی۔ پاکستان ایسی امتیازی اور یک طرفہ صورتحال میں چپ کیسے رہ سکتا ہے جب کہ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارت34 ملکی میزائل کنٹرول ٹیکنالوجی گروپ کا حصہ بن گیا ہے کیونکہ ارکان کی جانب سے بھارتی شمولیت پر اعتراض کا آج آخری دن تھا جس کے بعد بھارت خود بخود گروپ کا حصہ بن جائے گا۔ چہ دلاور است دزدے!

حقیقت میں بھارت پاکستان دشمنی میں امریکا کی چھتری استعمال کر رہا ہے، جب کہ امریکی سینیٹرز بن کارڈین اور ایڈورڈ مرکی انتباہ کر چکے ہیں کہ بھارتی عسکری جنون خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے، ابھی حال ہی میں امریکی کانگریس کے حقوق انسانی کمیشن نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بھارتی وزیراعظم امریکا کے دورے پر تھے ، کمیشن اجلاس میں بھارت میں مقیم مسلمان، عیسائی، سکھ اور بدھ مت اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہراساں کرنے کی رپورٹس پیش کی گئیں۔

تاہم پاکستان دشمنی میں بھارت تمام سفارتی آداب بھول گیا اور پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو ناگپور میں اقوام متحدہ کی ایک تقریب میں شرکت سے روک دیا ۔ بہر حال یہ وقت بے قابو بھارت کو تھپکی دینے کا اور پاکستان کے نام حکم جاری کرنے کا نہیں۔ امریکا یہ بھی دیکھے کہ بھارت نے برازیل ، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، چلی ، اور ویت نام کو براہموس میزائل برآمد کرنے کا پروگرام طے کیا ہے جب کہ خطے کے امن کو تہ و بالا ہونے سے بچانا دنیا کے مفاد میں ہے۔