غزہ میں جنگ بندی

اسرائیلی بمباری کے رکنے کے بعد غزہ ایک بہت بڑے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔


Editorial November 22, 2012
غزہ پر 8 روز کے دوران ہونے والی اسرائیلی بمباری سے 160 فلسطینی شہید ہوئے، فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ فلسطین کے محصور علاقے غزہ پر اسرائیل کی بمباری اور میزائل حملے ہفتہ بھر جاری رہنے کے بعد اب عالمی لیڈروں نے وہاں جنگ بندی کرا دی ہے۔

اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی آخری لمحات پر اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ انھوں نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں نیتن یاہو اور مصری دارالحکومت قاہرہ میں صدر مرسی کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ اسرائیلی حملوں میں شیر خوار بچوں اور عورتوں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی نشانہ اجل بنا دیئے گئے۔ اسرائیل کی طرف سے حملے بند ہونے کے بعد' جسے مغربی میڈیا ''جنگ بندی'' کا نام دے رہا ہے حالانکہ جنگ دو برابر کی طاقتوں میں ہوتی ہے، ہاتھ کی مٹھی میں کنکریاں اٹھائے لڑکے اور ٹینک بردار فوجیوں میں جنگ نہیں ہوتی۔ وہ سیدھی سیدھی جارحیت ہوتی ہے۔ جس کا مظاہرہ پوری دنیا پورا ہفتہ دیکھتی رہی اور فلسطینیوں کے بجائے ان کے مقابلے میں حملہ آور اسرائیل کی حمایت میں آوازیں بلند کرتی رہی کہ انھیں اپنے دفاع کے لیے ہر کارروائی کا حق حاصل ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بمباری کے رکنے کے بعد غزہ ایک بہت بڑے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ واضح رہے امریکی دانشور نوم چومسکی غزہ کو پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی ''اوپن ایئر جیل'' قرار دے چکے ہیں۔ اس اوپن ایئر جیل کے قیدیوں پر پچھلا پورا ہفتہ ہوائی حملوں کے ساتھ غزہ کا سمندری محاصرہ کرنے والے اسرائیلی بحری جہازوں پر سے میزائل باری بھی کی جاتی رہی۔ فلسطینیوں پر الزام تھا کہ وہ ٹوٹی ہوئی بائیسکل کی نالیوں یا پانی کے پائپوں میں بارود بھر کر انھیں راکٹ کی طرح اڑاتے ہیں جن کی زد میں اسرائیلی آباد کار آ جاتے ہیں یا آ سکتے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر فائر بندی کے 24 گھنٹے بعد تک فلسطینیوں کی طرف سے کوئی راکٹ حملہ نہ ہوا تو وہ غزہ کا محاصرہ قدرے نرم کر دیں گے تا کہ وہ اپنے کام کاج پر جا سکیں۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاورز کا یہ فرض ہے کہ وہ اسرائیل کو مستقبل میں ایسے کسی حملے سے روکنے کے لیے کوئی میکنزم تیار کرے تاکہ بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام مستقل بنیادوں پر رک سکے اور فلسطینیوں کو جن علاقوں میں خود مختاری دی گئی ہے ان کی آزادی کا احترام برقرار رہ سکے۔اگر امریکا اور یورپ کا دہرا معیار برقرار رہا تو مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں گی۔