دوسری عالمی ہندکو کانفرنس

علاقائی زبانوں کو جتنی زیادہ ترقی دی جائے گی ‘عوام میں اتنا ہی زیادہ شعور بلند ہو گا۔


Editorial November 22, 2012
زبانیں جتنی ترقی کریں گی اتنی زیادہ ہی ثقافتی رنگا رنگی ہوگی ۔ فوٹو: فائل

گندھاراہندکو بورڈ کے زیر اہتمام دوسری عالمی ہندکو کانفرنس دو دن جاری رہنے کے بعدچار قراردادوں کے متفقہ منظوری کے بعدپشاور میں ختم ہوگئی۔

کانفرنس میں ملک اور بیرونی ممالک سے بڑی تعداد مندوبین نے شرکت کی اور مقالے پڑھے۔ کانفرنس نے قراردادوں میں مطالبہ کیا کہ اسکولوں میں مقامی زبانوں میں نصاب متعارف کرانے کے خیبرپختونخوا حکومت کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے تجویز دی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے موقع پر دیگر زبانوں کا بھی احترام کیا جائے او ر اسکولوں کی سطح پر مادری زبان میں نصاب پڑھایا جائے ۔کانفرنس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں ایسی یونیورسٹوں کی حوصلہ افزائی کرے جو ہندکوسمیت پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوںپر تحقیق کریں۔ دنیا میں ان قوموں نے تیزی سے ترقی کی جنھوں نے مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دیا۔

ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں ریجنل لینگویج اتھارٹی قائم کریں تاکہ پاکستان میں موجود تمام علاقائی زبانیں ناپید ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔عالمی ہندکو کانفرنس کے آرگنائزر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مادری زبانوں کے فروغ کے لیے جاری کاوشوں کو عملی جامہ پہناناشروع کردیا ہے اور اب تک گندھارا ہندکو بورڈ قرآن پاک کے منظوم ترجمے کے علاوہ ہندکو لغت اور پچاس سے زیادہ کتابیں شایع کرچکا ہے جو بورڈ کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح پنجاب 'سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کو تھی چاہیے کہ وہ اس حوالے سے کام کریں۔ علاقائی زبانوں کو جتنی زیادہ ترقی دی جائے گی 'عوام میں اتنا ہی زیادہ شعور بلند ہو گا۔ یہ امر اب ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ ترقی اور علم کا بہترین ذریعہ مادری زبان میں تعلیم دینا ہے۔

ہندکو عالمی کانفرنس کے آرگنائزر نے دوسری زبانوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو بھی راہ دکھائی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں اور علاقائی زبانوں کی تعمیر و ترقی کے لیے کوششیں کریں۔پاکستان میں اردو'پنجابی 'سرائیکی' سندھی ' پشتو 'ہندکواور بلوچی زبان ہی نہیں بولی جاتی بلکہ براہوی'گوجری 'کھوار'بلتی اور چترالی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کی ترقی کے لیے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔ زبانیں جتنی ترقی کریں گی اتنی زیادہ ہی ثقافتی رنگا رنگی ہوگی جس سے عوام میں ایک دوسرے کو اپنانے کا جذبہ بھی پیدا ہو گا اور علمی ترقی بھی ہو گی۔ یونیورسٹیوں میں ان زبانوں کے کورس شروع کر کے ابتداکی جا سکتی ہے۔