افغانستان اور ایرانی سرحدوں پر گیٹس کی تعمیر

سرحدوں کو محفوظ بنانا صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور ایران کے بھی مفاد میں ہے


Editorial June 18, 2016
پاکستان، افغانستان اور ایران کی قیادت کو اس حوالے سے جذباتیت کے بجائے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کو سامنے رکھ کر سرحدوں کا انتظام کرنا چاہیے فوٹو: آئی این پی

طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر پر پاکستان کے ساتھ افغانستان کی تلخی ابھی جاری ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحدی پر تافتان کے مقام پر بھی سرحدی دروازے کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ اس کا مقصد غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ کا راستہ بند کرنا ہے۔ تافتان میں ''پاکستان گیٹ'' کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے جہاں پاکستان کی ایٹمی تجربہ کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس گیٹ کی تعمیر دو مہینے میں مکمل ہو گی اور اسے یوم پاکستان پر 14 اگست کو کھولا جائے گا۔ پاکستان گیٹ کی تعمیر پر ڈیڑھ کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا۔ دوسری طرف ایران نے اپنی سرحد کے اندر زاہدان میں میر جاوا کے مقام پر پہلے ہی ایک تجارتی گیٹ تعمیر کر لیا ہے۔ زاہدان ایرانی صوبے سیستان کا دارالحکومت ہے۔ ایران کا تقاضا تھا کہ پاکستان بھی اپنی طرف ایسا ہی گیٹ تعمیر کرے۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد پر کئی مقامات پر 10 فٹ اونچی دیوار بھی تعمیر کر رکھی ہے۔

دوسری طرف طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر پر افغانستان کے ساتھ تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا جس پر پاکستان نے چند دنوں کے لیے طورخم سرحد بند کر دی جس سے ہزاروں لوگ، گاڑیاں اور کنٹینر پھنس گئے تاہم بعدازاں دونوں جانب کے حکام کے مابین بات چیت کے نتیجے میں سرحد کھول دی گئی۔ باور کیا جاتا ہے کہ دونوں فریقین کے سیکیورٹی حکام کی فلیگ میٹنگ جلد متوقع ہے جس کے بعد حالات کے معمول پر آنے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ ادھر امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکا افغانستان اور پاکستان میں مصالحتی کردار ادا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اسے یقین ہے کہ دونوں ملک اپنے اختلافات خود ہی حل کر سکتے ہیں جس طرح کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔

پاکستان میں مبصرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مشرقی سرحد پر تو پاکستان کا ایک ازلی دشمن موجود ہے، ایسی صورت میں اسے دوسری سرحدوں پر کسی دشمن کی ضرورت نہیں تھی لیکن ہماری پالیسیوں میں دوراندیشی اور معاملہ فہمی کی کمی کے باعث شمال مغربی سرحدوں پر صورت حال بھی اچھی نہیں ہے۔ چلیں دیر آید درست آید کے مصداق اب بھی اگر حقائق کی سنگینی کا ادراک کر کے شمال مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کیا گیا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے۔

اصولی طور پر تو جس طرح مشرقی سرحد کی نگرانی کی جاتی ہے اسی طرح افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد کی بھی نگرانی کی جانی چاہیے کیونکہ دنیا میں ایک مقتدر ریاست کا تصور اس وقت ہی عملی شکل اختیار کرتا ہے جب اس کی سرحدیں متعین ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ محفوظ بھی ہوں۔ کیا چین اور ہندوستان کے درمیان جو سرحد ہے وہاں سے بھی آزادانہ آمد ورفت ہو سکتی ہے؟ حالانکہ وہ بھی ایک لائن ہیں جسے میکموہن لائن کہا جاتا ہے۔

یہ ہندوستان اور چین کے درمیان تنازع کا باعث بھی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کہ دونوں جانب سے لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے آ جا سکتے ہوں۔ افغانستان اور ایران دونوں پاکستان کے ہمسایہ ملک ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دونوں کے اسلامی اور تاریخی رشتے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ریاستیں اپنا وجود اسی وقت برقرار رکھتی ہیں جب ان کی سرحدیں محفوظ ہوں۔ پاکستان اس وقت جس قسم کے حالات سے دوچار ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ کیا جائے۔

سرحدوں کو محفوظ بنانا صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور ایران کے بھی مفاد میں ہے۔ افغانستان کو بھی یہ شکوہ رہتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے افغانستان کے علاقوں میں دراندازی ہوتی ہے۔ اگر پاک افغان سرحد محفوظ بنا دی جائے تو یہ شکوہ ختم ہو جائے گا۔ پاک افغان سرحد کو جتنا زیادہ محفوظ بنایا جائے گا دونوں ملکوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گی جس سے دہشت گرد کمزور ہوں گے۔ اسی طرح ایران کے ساتھ سرحد کو بھی فول پروف بنایا جانا بہت ضروری ہے۔

افغانستان اور ایران سے جو لوگ پاکستان آنا چاہیں، ان پر ویزے کی پابندی عائد کی جائے۔ بغیر ویزے کے کسی دوسرے اجازت نامے کے بل بوتے پر پاکستان میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔ اگر ممکن ہو تو پاک افغان سرحد کو ایک محدود مدت کے لیے پیدل یا کار وغیرہ کے ذریعے کراس کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے۔ صرف ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کی قیادت کو اس حوالے سے جذباتیت کے بجائے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کو سامنے رکھ کر سرحدوں کا انتظام کرنا چاہیے، اسی میں سب کا بھلا ہے۔