ٹرانزٹ ٹریڈ ای ڈیٹا ایکسچینج سسٹم آئندہ ماہ کام شرعو کر دیگا

سافٹ ویئرنصب، پاکستان نے افغان حکام کو بذریعہ محفوظ ای میل معلومات کے تبادلے کی دسمبر میں آزمائش سے آگاہ کردیا۔


Irshad Ansari November 24, 2012
افغانستان پیغام وصول کرکے باقاعدہ تصدیق کرے گا، ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال روکنے میں مدد ملے گی، دستاویز فوٹو: فائل

پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کو روکنے کیلیے دسمبر سے پہلے مرحلے میں محفوظ ای میل کے ذریعے الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج سسٹم(ای ڈی آئی) پر عملدرآمد پر اتفاق ہوگیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال اور پاکستان میں افغان کنٹینرز غائب ہونے کے واقعات روکنے کیلیے الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج سسٹم تیار کرلیا ہے اور آئندہ دسمبر سے الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ پر عملدرآمد شروع کردیا جائیگا، پاکستان کی طرف سے افغان حکام کو کسٹمز اتھارٹیز کے الیکٹرانک ڈیٹا انٹر چینج سسٹم نصب کرنے کا کام مکمل ہونے سے آگاہ کردیا گیا ہے تاہم افغان حکام کی طرف سے پاکستان کو بتایا گیا کہ افغانستان نے معلومات کے تبادلے کیلیے 2 فیز میں الیکٹرانک ڈیٹا انٹر چینج سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے،کام جاری ہے، توقع ہے کہ پہلا فیز آئندہ ماہ تک مکمل ہو جائیگا مگر افغانستان نے ایف بی آر کی طرف سے آئندہ ماہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت بھیجے گئے آزمائشی پیغام کی وصولی اور اس کی باقاعدہ تصدیق کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان محفوظ ای میل کے ذریعے معلومات کا تبادلہ ہی الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج سسٹم کے پہلے فیز پر عملدرآمد کا آغاز و افتتاح ہوگا۔ اس بارے میں ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ 50 ارب روپے مالیت کے کنٹینر اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کو روکنے کیلیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں جس کے مثبت نتائج آئے ہیں اور اسی پالیسی کے تحت الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج سسٹم نصب کیا جارہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل سافٹ ویئر ہوگا جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کنٹینرز کی پاکستان سے افغانستان پہنچنے کی تصدیق کی جاسکے گی اور راستے میں کنٹینرز غائب ہونے کے واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی۔