موسمیاتی تبدیلی لحاف اور گدوں کی تیاری کا رجحان کم ہو گیا

موسم سرما کا دورانیہ کم ہو گیا ،پہلے لحاف اور گدوں کی روئی دھنکوانے اور ڈورے ڈلوانے کا کام 2ماہ قبل شروع ہوجاتاتھا.


Business Reporter November 24, 2012
موسم سرما کی آمد پرشہر کی ایک دکان میں لحاف تیار کیے جارہے ہیں(فوٹو ایکسپریس)

LONDON: شہر میں موسم سرما کا دورانیہ کم ہونے، کمبل اور فائبر کی روئی سے تیار شدہ رضائیوں کا استعمال بڑھنے سے لحاف گدوں کی تیاری کا رجحان کم ہوگیا ہے۔

سرد موسم کی آمد سے قبل لحاف گدوں کی روئی دھنکوانے اور نئے ڈورے ڈلوانے کا کام عموماً 2ماہ قبل شروع کردیا جاتا تھا تاہم وقت گزرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث شہر میں لحاف گدوں کی تیاری کا رجحان سال بہ سال کم ہورہا ہے اور اسی تناسب سے کاروباری سیزن بھی سکڑ کر ایک ماہ تک محدود ہوگیا ہے، اس کاروبار سے گزشتہ 20 سال سے منسلک موسیٰ کالونی کے رہائشی محمد رفیق نے بتایا کہ 3سال کے دوران لحاف اور گدوں کی تیاری کا کام 60فیصد تک کم ہوگیا ہے اور اب بمشکل ایک سے ڈیڑھ ماہ تک لحاف گدے تیار کیے جاتے ہیں، باقی دنوں میں روزگار کے لیے دیگر کام کرنے پڑتے ہیں۔

لحاف گدوں کی تیاری کے لیے درجہ بندی کے لحاظ سے تین طرح کی روئی استعمال کی جاتی ہے جن میں 70روپے سے لے کر 100روپے کلو تک کی روئی شامل ہے، چار کلو روئی سے بنا سنگل لحاف 900سے ایک ہزار روپے جبکہ 4کلو روئی سے تیار سنگل گدا 900اور ڈبل گدا 1200سے 1400روپے میں تیار کیا جاتا ہے جس پر لحاف کے استر کی لاگت 300سے 450روپے اور گدے کے استر کی قیمت 200سے 300روپے، مزدوری سنگل لحاف گدے پر 150روپے اور ڈبل لحاف گدوں پر 200سے 250روپے آتی ہے، پرانے گدوں کی روئیصاف کرکے بھی نئے گدے اور لحاف تیار کیے جاتے ہیں جس پر روئی صاف کرنے کی اجرت روئی کی حالت کے لحاظ سے وصول کی جاتی ہے، تکیے عموماً 1.5کلو روئی سے تیار کیے جاتے ہیں.

گائو تکیے 3سے 4کلو روئی سے تیار ہوتے ہیں، علاوہ ازیں موسم سرما میں لحاف کی جگہ بیرون ملک سے درآمد شدہ کمبل کی فروخت کا رجحان سال بہ سال بڑھ رہا ہے چین سے درآمد شدہ سستے بلینکٹس کم جگہ گھیرنے اور وزن میں ہلکے ہونے کے ساتھ لانگ لائف ہوتے ہیں جن کی دھلائی ممکن ہوتی ہے اورسیزن ختم ہونے پر پلاسٹک کور میں تہہ کرکے رکھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے، روئی سے تیار کردہ لحاف گدے زیادہ وزن رکھنے کے ساتھ زیادہ جگہ بھی گھیرتے ہیں اور سال بھر ان کو ایک جگہ پر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بلینکٹ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے،شہر کے مختلف بازاروں میں سنگل بلینکٹ 1200سے 1800روپے جبکہ ڈبل کمبل 2000سے 3000روپے تک میں فروخت کیے جارہے ہیں ، نئے بلینکٹس کے ساتھ پرانے بلینکٹس بھی بڑے پیمانے پر فروخت کیے جارہے ہیں جس میں ڈبل سائز کا کمبل 800سے ایک ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ پرانے کمبل کی فروخت کا بڑا مرکز لائٹ ہائوس پر قائم ہے جہاں درآمد شدہ غیرملکی کمبل فروخت کیے جاتے ہیں جبکہ شہر کے مختلف بازاروں میں بھی ٹھیلوں اور دکانوں پر کمبل کی فروخت کے عارضی مراکز قائم کردیے گئے ہیں۔