افغان امن عمل میں شریک گروپ میں توسیع کی کوشش

افغان امن عمل میں اب بھارت اور ایران کو بھی شامل کر لیا جائے گا


Editorial June 24, 2016
افغان امن عمل میں اب بھارت اور ایران کو بھی شامل کر لیا جائے گا. فوٹو: فائل

HYDERABAD: پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کے حوالے سے میڈیا میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ افغان امن عمل میں اب بھارت اور ایران کو بھی شامل کر لیا جائے گا جب کہ پاکستان کے کردار کی اہمیت بھی کم نہیں ہو گی۔ رچرڈ اولسن نے، جنھیں بعد ازاں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کا خصوصی نمایندہ مقرر کر دیا گیا، واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے موضوع پر ہونے والی بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ امریکا افغانستان کے مسئلہ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مسٹر اولسن کا کہنا تھا کہ طالبان لیڈر ملا منصور اختر کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں متعین امریکی فوجی دستوں نے ملک کے امن و امان کی ذمے داری بھی خود سنبھال لی ہے جب کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں مگر طالبان کی طرف سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہو رہا۔ رچرڈ اولسن نے مزید کہا کہ امریکا کی افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا اس خطے میں اپنے مفادات کا ہر اعتبار سے تحفظ جاری رکھے گا نیز امریکا افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن کو اب بھی ترجیح دے رہا ہے۔

واضح رہے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک چار فریقی گروپ کی کوشش بھی جاری رہی ہے جس میں چین بھی شرکت کر رہا ہے تاہم ملا منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے صریحاً انکار کر دیا ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان کے معاملات میں بھارت اور ایران کی شرکت سے ممکن ہے' کچھ بہتر نتائج نکلیں لیکن اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو اس کی امید کم ہے' خصوصاً افغانستان کے معاملات میں بھارت کی شمولیت سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے' چار فریقی گروپ پہلے ہی اپنی کوششیں کر رہا ہے' گروپ میں مزید ممالک کی شمولیت سے مفادات کا ٹکراؤ شروع ہو سکتا ہے' امریکا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے امن کے سب سے اہم کردار طالبان کے ساتھ معاملات طے کرے تاکہ یہاں امن کی راہ نکل سکے۔