بلوچستان کے73 ہڑتالی ڈاکٹر معطل پی ایم اے سندھ کا کل سے ہڑتال کا اعلان

ہڑتال39 ویں روز میں داخل ، ایمرجنسی بھی بند ، مریض مسیحائوں کے انتظار میں تڑ پتے رہے ،پنجاب سے30ڈاکٹر طلب


Staff Reporter/Numainda Express November 25, 2012
بعض پروفیسروں کی جعلی اسناد کے انکشاف پر تحقیقات جاری ، سربمہر کلینک نہیں کھولیں گے ، سیکریٹری صحت بلوچستان. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ماہر امراض چشم ڈاکٹر سعید خان کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال39 ویں روز بھی جا ری رہی ۔

اسپتالوں میںمسلسل چھٹے روز ایمرجنسی سروسز معطل رہیں ، محکمہ صحت نے73ہڑتالی ڈاکٹروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہڑتالی ڈاکٹروں کی نومبر کی تنخواہیں روکنے کا فیصلہ کر لیا ۔ ڈاکٹر سعید خان کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال39 ویں روز بھی جا ری رہی جس کے باعث ہزاروں مریض مسیحائوں کے انتظار میں تڑ پتے رہے ۔کوئٹہ سول اسپتال اور بی ایم سی سمیت تمام بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں نے ایمرجنسی سمیت او پی ڈی اور جنرل آپریشن تھیٹرز کا مکمل بائیکاٹ کیا ۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ہڑتالی ڈاکٹروں کی نومبر کی تنخواہیںروکنے کے لیے سیکریٹری صحت نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو باقاعدہ سمری بھجوا دی ہے جس کی منظوری کے بعد تمام ہڑتالی ڈاکٹروں کی تنخواہیں روک دی جائیں گی ۔

ذرائع کے مطابق سول اسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی اسپتال کا ایمرجنسی فنڈ بھی سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیاہے ۔ دریں اثنا صوبائی سیکریٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی اورغیراخلاقی طور پر ہڑتال کرنے والے 73ڈاکٹروں کو فوری معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی نومبر کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں جبکہ 30 ڈاکٹروں کی خدمات لاہور اور راولپنڈی سے طلب کر لی گئی ہیں ۔ بعض پروفیسروں کی جعلی سندوں کا انکشاف بھی ہوا ہے اور کئی ڈاکٹر ایسے ہیں جنہوں نے بیرون ملک سے جعلی ڈگریاں حاصل کی ہیں ، اس بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت بلوچستان میں45 پرائیویٹ اسپتال ہیں جن میں سے دس کے پاس این او سی نہیں ہے ، ان میں پشین اڈے پر ہارٹ اینڈ جنرل اسپتال کے پاس بھی این او سی نہیں جسے جلد بند کر دیا جائے گا ۔

اس کے علاوہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر جن پر لاکھوں روپے خرچ کیا جاتا ہے ان کی سروسز بھی ختم کی جا رہی ہیں ۔ انھوں نے کہا جو کلینک سربمہرکیے گئے ہیں انھیں کسی صورت نہیں کھولا جائے گا اور پرائیویٹ اسپتال جو غیرقانونی ہیں جن کے پاس این او سی نہیں انھیں بھی سربمہر کر دیا جائے گا ۔ ادھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ نے بلوچستان حکومت کی جانب سے73ڈاکٹروںکی معطلی کے خلاف سندھ میں بھی ہڑتال کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ عاشورہ کے بعد پیر سے سندھ کے اسپتالوں میں بھی ہڑتال کی جائے گی ۔ پی ایم اے سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت بلوچستان نے ڈاکٹروںکے خلاف انتقامی کارروائی شروع کر دی ہے ۔ پی ایم اے سندھ اس کی مذمت کرتی ہے ۔