بنگلہ دیش میں دہشت گردی کی واردات

بنگلہ دیش کی مقامی سیاست اپنی جگہ رہی لیکن ڈھاکہ میں ہونے والی دہشت گردی کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جا سکتا ہے


Editorial July 02, 2016
پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان سب کی بیخ کنی کرنی ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں گزشتہ روز دہشت گردی کے واقعہ میں20کے قریب افراد مارے گئے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی رات 7دہشت گردوں نے ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں ایک معروف کیفے کو نشانہ بنایا۔ اس کیفے میں زیادہ تر غیرملکی مہمان موجود رہتے ہیں، دہشت گردوں نے پہلے فائرنگ کی جس سے چند ہلاکتیں ہوئیں اور پھر کیفے میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔

بنگلہ دیشی کمانڈوز نے کارروائی کی، اس دوران بھی ہلاکتیں ہوئیں، اطلاعات کے مطابق20افراد مارے گئے ہیں جن میںغیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کمانڈوز کے آپریشن کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے جب کہ ساتویں کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے، بنگلہ دیشی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موجود ہیں،اس حملے کی ذمے داری داعش سے منسلک ایک شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

بنگلہ دیش میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات یقیناً قابل مذمت ہے کیونکہ بے گناہ افراد کی جان لینا کسی طور پر بھی درست عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ چند روز قبل ترک کے شہر استنبول کے ایئر پورٹ کو خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترکی چونکہ شام و عراق کے ساتھ ہے، داعش کا خمیر بھی وہیں سے اٹھا ہے اور شام و عراق کے بڑے حصے پر داعش کا کنٹرول بھی ہے، اس لیے مشرق وسطیٰ اور ترکی میں حملے سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن ڈھاکہ میں ہونے والے حملے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ داعش برصغیر پاک و ہند کے خطے میں بھی اپنی جڑیں بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

بلاشبہ بنگلہ دیش حکومت کے اقدامات بھی مقامی مسلمانوں کے لیے تشویش و پریشانی کا باعث ہیں لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیشی مسلمانوں کا کلچر عدم تشدد کے اصولوں پر قائم ہے، بنگلہ دیشی مسلمانوں میں انتہا پسندی موجود نہیں ہے۔داعش جیسی تنظیموں کا وہاں پر پرزے نکالنا آنے والے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے،اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیاء پرپڑ سکتے ہیں۔ادھر اس حملے کے نتیجے میں بنگلہ دیشی حکومت مزید سخت اقدامات کرے گی اور اسے ایک جواز بھی مل گیا ہے، بنگلہ دیش میں پہلے ہی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔

اس حملے کے بعد بنگلہ دیش کا سیکولر طبقہ حکومت پر دباؤ بڑھائے گا کہ وہ اسلامی تنظیموں کے خلاف مزید کارروائی کرے لہٰذا ڈھاکہ میں ہونے والے حملے بنگلہ دیش مسلمانوں کے لیے مزید مشکلات کا سبب بنیں گے۔بنگلہ دیش کی مقامی سیاست اپنی جگہ رہی لیکن ڈھاکہ میں ہونے والی دہشت گردی کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جا سکتا ہے۔پاکستان کو بھی اس ساری صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

داعش کے اثرات افغانستان میں بھی موجود ہیں، بعض حلقے تسلسل سے کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی بعض گروہوں کے روابط داعش کے ساتھ ہیں، اس حوالے سے مختلف شہروں میں وال چاکنگ کی خبریں بھی منظرعام پر آتی رہیں تاہم حکومت نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔ پاکستان اور اس کے ارد گرد جس قسم کی صورت حال موجود ہے اس میں داعش کی موجودگی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ افغانستان میں افغان طالبان بھی موجود ہیں جب کہ پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد بھی وہاں موجود ہیں ، ادھر بھارتی لابی بھی پوری طرح سرگرم ہے۔

وہ دہشت گردی کی ہر واردات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ افغانستان میں بھارتی لابی خاصی مضبوط ہے، اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی بھارتی لابی بہت مضبوط ہے ۔بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات میں بہت زیادہ سنجیدگی اور ذہانت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو انتہائی فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ایک نہیں کئی ایسے گروپ سرگرم عمل ہیں ، جو بظاہر تو نظریاتی لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن درحقیقت ان کا ایجنڈا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ ایک جانب ایسے گروہ ہیں جو مذہب کے نام پر سرگرم ہیں اور دوسری جانب ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو قوم پرستی اور لسانیت کا علم اٹھا کر اپنا کام کر رہے ، تیسرا گروہ جرائم مافیا کا ہے، ان کے درمیان کہیں نہ کہیں باہمی تعلق بھی موجود ہے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان سب کی بیخ کنی کرنی ہے۔