مردم شماری سے ڈر کس بات کا

آئین کے مطابق ہر دس برس بعد ملک میں مردم شماری کرانا لازمی ہے


Editorial July 05, 2016
مردم شماری نہ ہونے کا باعث اول تو صوبوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پروان چڑھ رہی ہے فوٹو: فائل

KARACHI: ملک میں مردم شماری جیسے اہم ترین مسئلے کو مسلسل نظراندازکیے جانے کے تناظر میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انورظہیرجمالی نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن اورسیکریٹری شماریات سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی اس وقت بیس کروڑکے لگ بھگ ہوچکی ہے۔

آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی،آئین کے مطابق ہر دس برس بعد ملک میں مردم شماری کرانا لازمی ہے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ آئین میں عوامی حقوق کے حوالے سے جو نکات ، دفعات درج ہیں ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ عوامی حقوق سے روگردانی نہ جانے کیوں جمہوری منتخب حکومتوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔حالانکہ مردم شماری کا براہ راست تعلق ملک کی اقتصادی اورمعاشی صورتحال سے منسلک ہے،ان اعدادوشمارکی روشنی میں مستقبل کی پلاننگ کی جاتی ہے۔ یہ چلن دنیا بھر میں عام ہے، لیکن ہمارا شماران قوموں میں ہوتا ہے جو خودکو تباہ کرلیتی ہیں اورانھیں اس کا ذرا بھی ملال نہیں ہوتا۔ پورے ملک کا انفرا اسٹرکچر مردم شماری کے اعدادوشمار کے تناظر میں کھڑا کیا جاتا ہے ۔

تعلیم ، صحت، صنعت، تعمیر وترقی کے منصوبے اور روزگار کے نئے مواقعے الغرض زندگی کا کونسا ایسا شعبہ ہے جس میں آبادی کے تناسب سے کام کرنے اور منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اہم ترین کام کے مسلسل نظرانداز کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں،کیونکہ پہلے ہی ہم آدھا پاکستان انتخابی نتائج قبول نہ کرنے کی صورت میں گنوا چکے ہیں ۔ مردم شماری نہ ہونے کا باعث اول تو صوبوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پروان چڑھ رہی ہے اور دوم وسائل کی تقسیم انتہائی غیر منصفانہ طریقے سے ہورہی ہے۔