عامرکو دباؤ میں لانے کےلیے برطانوی میڈیا سرگرم

برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر سرخی لگائی تھی کہ ’’اسپاٹ فکسر عامر نے واپسی کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں’’


Sports Reporter July 06, 2016
میڈیا منیجر آغا اکبر مقامی صحافیوں کے دباؤ میں نظر آرہے ہیں۔ فوٹو: فائل

عامرکو دبائو میں لانے کیلیے برطانوی میڈیا سرگرم ہو گیا، ایسے میں پی سی بی میڈیا کے محاذ پر یکسر ناکام نظر آرہا ہے، نفسیاتی جنگ میں نت نئے حربوں پر چپ سادھ لی گئی، محمد عامر کیخلاف کپتان الیسٹرکک کے متنازع بیان پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا، مقامی نشریاتی اداروں کی منفی سرخیوں پر بھی مکمل خاموشی چھائی رہی،روی بوپارہ پیسر کے دفاع کیلیے میدان میں آگئے، ٹیم کے ساتھ موجود میڈیا منیجر دبائو برداشت نہیں کرپا رہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی ٹیم انگلینڈ پہنچی تو توقع کی جارہی تھی کہ میدان کے اندر کارکردگی دکھانے کے ساتھ ایک بڑے چیلنج مقامی میڈیا کے تابڑ توڑ حملوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا، اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کی صورت میں ایک آسان ہدف بھی موجود تھا، دورے کے آغاز سے قبل ہی شروع کی جانے والی نفسیاتی جنگ میں ایک تازہ حربہ انگلش کپتان الیسٹر کک نے پیر کو آزمایا، انھوں نے پاکستانی پیسر کو خبردار کیا تھا کہ 6 سال بعد لارڈزکے میدان پر ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر انھیں ناخوشگوار استقبال کا سامنا کرنا ہوگا،میرے بس میں ہوتا تو فکسرز پر تاحیات پابندی عائد کردیتا، عامر نے سمرسٹ کیخلاف پریکٹس میچ میں تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 11 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو میدان بدر کیا۔

ایسے میں ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے بھی لفظی جنگ کا حصہ بنتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر سرخی لگائی تھی کہ ''اسپاٹ فکسر عامر نے واپسی کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں'' ، ٹویٹ میں بھی ایسا ہی جملہ لکھا گیا کہ '' اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ عامر کی فرسٹ کلاس میں 3وکٹوں کے ساتھ واپسی'' دوسری جانب پی سی بی میڈیا کے محاذ پر یکسر ناکام نظر آرہا ہے، میڈیا منیجر آغا اکبر مقامی صحافیوں کے دباؤ میں نظر آرہے ہیں۔

انھوں نے ایک نجی چینل کو محمد عامر کا انٹرویو کرنے کی اجازت دینے میں تو تاخیر نہیں کی لیکن الیسٹرکک اور مقامی میڈیا کی جانب حملوں پر مکمل چپ سادھ لی، ماہرین کے مطابق ابھی تو عامر نے وارم اپ میچ میں ہی وکٹیں لی ہیں ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی تو دبائو میں لانے کیلیے کئی نفسیاتی حربے اختیار کیے جائینگے،اس صورت کا میڈیا مینجر کس طرح سامنا کرپائینگے اس پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ پی سی بی کے بجائے انگلش آل راؤنڈر روی بوپارا نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نشریاتی ادارے پر طنز کیا، سماجی رابطے کی ویب سایٹ پر انھوں نے کہاکہ ''اس لڑکے نے عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، اس پر زبردست ہیڈ لائن لگائی جا سکتی تھی، نشریاتی ادارے کے اسپورٹس حکام کی سوچ پر افسوس ہے۔