احمد شہزاد قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کیلیے پُرعزم

بچپن سے اب تک کھیل ہی اوڑھنا بچھونا رہا،طویل عرصے ملک کی نمائندگی خواب ہے،اوپنر


Sports Reporter July 09, 2016
فوٹو؛ فائل

احمد شہزاد قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پُرعزم ہیں جن کا کہنا ہے کہ بچپن سے اب تک کرکٹ ہی اوڑھنا بچھونا رہی، طویل عرصے تک ملک کی نمائندگی خواب ہے، آئی سی سی رینکنگ کے ٹاپ 5 بیٹسمینوں میں مستقل جگہ بنانا ہدف ہے،اپنے آئیڈیل وسیم اکرم کی طرح کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔

قومی کرکٹ ٹیم سے نظر انداز احمد شہزاد نے کم بیک کا عزم ظاہر کیا ہے،ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ صرف 7 سال کی عمر میں ہی بھائی کے ہمراہ مسلم جیمخانہ کلب میں نیٹ پریکٹس کیلیے جانا شروع کردیا تھا،اس کے بعد دماغ میں ایسا جنون سمایا جو اب تک برقرار ہے، انھوں نے کہا کہ ساڑھے 16سال کی عمر میں پاکستان انڈر19ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا تو قومی ٹیم میں شمولیت کا خواب دیکھا، اس سے قبل صرف کرکٹ سے بے پناہ محبت ہی میدان میں کھینچ لاتی رہی،میرے کوئی بڑے عزائم نہیں تھے۔

آج کے لڑکے بیٹ ہاتھ میں پکڑتے ہی ملک کی نمائندگی کیلیے بیتاب ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کرکٹ ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے، قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پُرعزم ہوں،اس کیلیے سوائے محنت کے کوئی راستہ نہیں،کم بیک کے بعد پوری کوشش کروں گا کہ آئی سی سی رینکنگ کے ٹاپ 5بیٹسمینوں میں جگہ بنائوں اور اس کو برقرار بھی رکھوں،کسی نہ کسی طور ملک کیلیے کارکردگی دکھاتا رہوں تو یہی میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔احمد شہزاد نے کہا کہ میرے آئیڈیل کرکٹر وسیم اکرم ہیں،اگرچہ وہ ایک بولر تھے لیکن میرے لیے ان کی شخصیت رہنمائی کا باعث ہے،انھوں نے نشیب وفراز کے باجود اپنے کیریئر کو مسلسل کامیابیوں سے مزین کیا، وہ کرکٹ کے تاریخ کے بہترین پیسر تھے، ایک بیٹسمین کے طور میرا خیال ہے کہ ان کا سامنا سب سے مشکل رہا ہوگا۔